Brailvi Books

ضیائے صدقات
368 - 408
    اگر مانگنا واقعی ناگزير ہو تو نيک لوگوں سے مانگا جائے، چنانچہ:
عَنِ ابْنِ الْفِرَاسِيِّ، أَنَّ الْفِرَاسِيَّ قَالَ: قُلْتُ لِرَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : أَسْأَلُ يا رَسُوْلَ اللہِ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : ''لَا، وَإِنْ کُنْتَ لَا بُدَّ فَسَلِ الصَّالِحِين''.۱؎
ابن فراسی سے مروی ہے کہ فراسی فرماتے ہيں: ميں نے خاتم المرسلین، رحمۃللعالمین، شفیع المذنبین، انیس الغریبین، سراج السالکین، محبوب رب العٰلمین، جناب صادق و امینصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی خدمت ميں عرض کيا کہ يارسول اللہ! صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ميں مانگ سکتا ہوں؟ تو نبی کريم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمايا: نہيں اور اگر مانگنا پڑجائے تو نيکوں سے مانگ۔

    اس حدیث کے تحت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہيں: مطلب يہ ہے کہ بلا سخت مجبوری کسی سے کچھ مانگو مت، جب سخت مجبور ہوجاؤ، جس سے شرعاً مانگنا درست ہوجائے تو اللہ کے متقی و نيک بندوں ہی سے مانگوکيونکہ ان کی روزی حلال ہوگی نيز اس ميں برکت ہوگی جو تمہيں بھی نصيب ہوجائے گی نيز وہ تمہيں لعنت ملامت نہ کرينگے جھڑکيں گے نہيں نيز وہ تمہارے حق ميں دعا بھی کرينگے جس سے تمہاری فقيری دور ہوجائے گی۔ يہ حکم بھيک مانگنے کے متعلق ہے مگر برکت حاصل کرنے کے لئے ان کے تبرکات مانگنا بہت ہی بہتر ہے جس پر بادشاہوں کو فخر ہوتا ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے حضور انورصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے بال شريف، تہبند،
مدینــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ

۱؎    (سنن أبي داود،کتاب الزکاۃ، باب في الاستعفاف،الحديث:۱۶۴۶،ج۲،ص۲۰۲)

(سنن النسائي،کتاب الزکاۃ، باب سؤال الصالحين،الحديث:۲۵۸۶،ج۳،الجزء۵،ص۹۹)

(مشکاۃ المصابيح،کتاب الزکاۃ،باب من تحل لہ المسألۃ ومن لا تحل لہ،الحديث:۱۸۵۳،ج۱،ص۳۵۲)
Flag Counter