Brailvi Books

ضیائے صدقات
367 - 408
طَعَاماً خَيراً مِّنْ أَنْ ياکُلَ مِنْ عَمَلِ يدہِ، وَإِنَّ نَبِيَّ اللہِ دَاوٗدَ علیہ السلام کَانَ ياکُلُ مِنْ عَمَلِ يدہِ''.۱؎
علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ کسی نے اس کھانے سے بہتر کوئی کھانا نہیں کھايا جو اپنے ہاتھ سے کمایا ہو، اللہ کے نبی داؤد علیہ السلام اپنے ہاتھ سے کما کر کھاتے تھے۔

    اس حدیث پاک کی شرح میں حکیم الامت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں: ہاتھوں سے مراد پوری ذات ہے، ہاتھ سے کمائے يا پاؤں سے يا آنکھ يا زبان سے غرضيکہ اپنی قوّت سے حلال روزی کمائے، رب تعالیٰ فرماتا ہے:
(فَبِمَا کَسَبَتْ اَیۡدِیۡکُمْ)
 ترجمہ: جو تمہارے ہاتھوں نے کمايا (کنزالايمان[شورٰی:۴۲/۳۰]) وہاں بھی أَيديْيعنی ہاتھوں سے ذات ہی مراد ہے، مقصد يہ ہے کہ دوسروں کی کمائی پر اپنا گزارہ نہ کرے خود محنت کرے۔

    ''داؤد علیہ السلام اپنے ہاتھ سے کماکر کھاتے تھے'' اس کے تحت مفتی صاحب فرماتے ہیں:باوجوديکہ آپ بادشاہ تھے مگر آپ نے کبھی خزانہ سے اپنے پر خرچ نہ کيا بلکہ روزانہ ايک زِرہ بناتے تھے جسے چھ ہزار درہم ميں فروخت کرتے تھے، دو ہزار اپنے بال بچوں پر خرچ فرماتے تھے اور چار ہزار فقراء بنی اسرائيل پر خيرات کرتے تھے۔ (مرقات) علماء فرماتے ہيں کہ بقدرِ ضرورت کمائی فرض ہے اور زيادہ مباح اور فخر و زيادتی مال کے لئے کمائی مکروہ ہے۔۲؎
مدینــــــــــــــــــــــــــــــــــہ

۱؎    (صحيح البخاري،کتاب البيوع، باب کسب الرجل وعملہ بيدہ،الحديث:۲۰۷۲،ج۲،ص۱۰)

(مشکاۃ المصابيح،کتاب البيوع، باب الکسب وطلب الحلال،الحديث:۲۷۵۹،ج۱،ص۵۱۳)

۲؎     (مرآۃ المناجيح شرح مشکاۃ المصابیح،ج۴،ص۲۲۶۔۲۲۷)
Flag Counter