Brailvi Books

ضیائے صدقات
366 - 408
بھول گئے، مسلمانوں ميں صدہا خاندان پيشہ ور بھکاری ہيں۔۱؎

    ايک اور حديث شريف:
عَنِ الزُّبَير بْنِ الْعَوَّامِ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : ''لِأَنْ ياخُذَ أَحَدُکُمْ أَحْبُلَہُ فَياتِيَ بِحُزْمَۃٍ مِنْ حَطَبٍ عَلٰی ظَھْرِہِ
حضرت زبير بن عوام رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہيں کہ اللہ عزوجل کے محبوب، دانائے غیوب، منزہ عن العیوب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمايا:تم میں سے کوئی اپنی رسی لے کر جائے اورا پنی پیٹھ پر لکڑیوں کا گٹھا لاد کر لائے
فَيبيعھَا، فَيکفَّ بِھَا وَجْھَہُ خَير لَّہُ مِنْ أَنْ يسأَلَ النَّاسَ أَعْطُوْہُ أَمْ مَنَعُوْہُ''.۲؎
پھر اسے بیچے اور یوں اپنے چہرہ کو سوال کی ذلت سے بچائے یہ اس کیلئے اس سے بہتر ہے کہ لوگوں سے سوال کرے اور لوگ اسے دیں یا منع کردیں۔

    اپنے ہاتھ کی کمائی کا کھانا ہی بہتر ہے۔ چنانچہ:
عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِ يکرِبَرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : ''مَا أَکَلَ أَحَدٌ
حضرت مقدام بن معديکرب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے،وہ شہنشاہ خوش خصال، پیکر حسن وجمال، دافع رنج و ملال، صاحب جودو نوال، رسول بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صلی اللہ تعالیٰ
مدینـــــــــــــــــــــــــــہ

۱؎    (مرآۃ المناجيح شرح مشکاۃ المصابیح،ج۳،ص۶۴۔۶۵)

۲؎     (صحيح البخاري،کتاب الزکاۃ، باب الاستعفاف عن المسألۃ،الحديث:۱۴۷۱،ج۱،ص۳۶۲)

(سنن ابن ماجہ،کتاب الزکاۃ، باب کراھيۃ المسألۃ،الحديث:۱۸۳۶،ج۲،ص۴۰۸)
Flag Counter