| ضیائے صدقات |
اس سے دو مسئلے معلوم ہوئے، ايک يہ کہ فقير نادار پر بھی بيوی بچوں کا خرچہ واجب ہے، کيونکہ حضور انورصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے يہ نہ فرمايا کہ بيوی سے بھی کمائی کرا، دوسرے يہ کہ کمانا صرف مرد پر لازم ہے نہ کہ بيوی پر کہ حضور انورصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے کلہاڑی صرف مرد کو دی، دو کلہاڑياں ليکر عورت و مرد ميں تقسيم نہ فرمائيں، اس سے وہ لوگ عبرت پکڑيں جو لڑکيوں سے کمائی کرانے کے لئے بی۔اے، ايم۔اے کرارہے ہيں اور جو ضروری مسائل لڑکيوں کو سيکھنا فرض ہيں اُن سے بالکل بے خبر ہيں۔
''تمہیں پندرہ دن تک نہ دیکھوں''اس کی وضاحت کرتے ہوئے حکیم الامت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:اس سے دو مسئلے معلوم ہوئے، ايک يہ کہ جنگلی لکڑياں شکاری جانوروں کی طرح عام مباح ہيں جو قبضہ کرلے وہ اس کا مالک ہے کہ وہ اسے بیچ بھی سکتا ہے، دوسرے يہ کہ نبی کريم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم باذنِ الٰہی مالکِ احکام ہيں، ديکھو حضور انورصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اسکے لئے ان پندرہ دنوں کی جماعت سے نماز معاف فرمادی حتی کہ درميان ميں جمعہ بھی آيا وہ بھی اس کے لئے معاف رہا، اسی دوران ميں اسے مسجد نبوی ميں آنا ممنوع ہوگيا کيونکہ اس کو فرمايا گيا: ''تجھ کو ميں ديکھوں نہيں'' اب اگر وہ مسجد ميں حاضر ہوتے، تو اس ممانعت کے مرتکب ہوتے، انہوں نے اس زمانہ ميں دن کی نماز جنگل ميں اور رات کی گھر پڑھيں۔(چند سطور کے بعدفرماتے ہیں)يہ ان کی خصوصيات ميں سے ہے، اب کسی تاجر يا پيشہ ور کو يہ جائز نہيں کہ کاروبار ميں مشغول رہ کر جماعت ترک کرے۔
مزید فرماتے ہیں:حلال پيشہ خواہ کتنا ہی معمولی ہو بھيک مانگنے سے افضل ہے کہ اس ميں دنيا و آخرت ميں عزّت ہے، افسوس آج بہت سے لوگ اس تعليم کو