Brailvi Books

ضیائے صدقات
364 - 408
عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عُوْداً بِيدہِ، ثُمَّ قَالَ: ''اِذْھَبْ فَاحْتَطِبْ وَبِعْ، وَلَا أَرَينکَ خَمْسَۃَ عَشَرَ يوماً''، فَفَعَلَ فَجَاءَ وَقَدْ أَصَابَ عَشْرَۃَ دَرَاھِمَ فَاشْتَرٰی بِبَعْضِھَا ثَوْباً وَبِبَعْضِھَا طَعَاماً فَقَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : ''ھٰذَا خَير لَکَ مِنْ أَنْ تَجِيئَ الْمَسْأَلَۃُ نُکْتَۃً فِيْ وَجْھِکَ يومَ الْقِيامَۃِ، إِنَّ الْمَسْأَلَۃَ لَا تَصْلُحُ إِلَّا لِثَلَاثٍ: لِذِيْ فَقْرٍ مُدْقِعٍ، أَوْ لِذِيْ غُرْمٍ مُفْظِعٍ، أَوْ لِذِيْ دَمٍ مُوْجِعٍ''.۱؎
سے اسميں دستہ ڈالا، پھر فرمايا: جاؤ لکڑياں کاٹو اور بیچو اور اب ميں تمہيں پندرہ دن تک نہ ديکھوں انہوں نے ایسا ہی کیا پھرجب حاضر ہوئے تو ان کے پاس دس درہم تھے انہوں نے کچھ درہموں کاکپڑا خریدا اورکچھ کا غلّہ، حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمايا: تمہارے لئے يہ اس سے بہتر ہے کہ قيامت کے دن سوال تمہارے منہ پر چھالا بن کر آتاسوال درست نہیں مگر تین شخص کیلئے ایسی محتاجی والے کیلئے جو اسے زمین پر لٹا دے یا تاوان والے کیلئے جو رسوا کردے یا خون والے کیلئے جو اسے تکلیف پہنچائے۔

    اس حدیث کی شرح میں حکیم الامت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:يعنی ايک درہم کے جَو خريد کر اپنی بيوی کو دے تاکہ وہ پيس کر پکا کر خود بھی کھائے تجھے اور بچّوں کو بھی کھلائے، اور دوسرے درہم کی کلہاڑی خريد کر مجھے دے جا اور روٹی کھا کر پھر آنا،
مدینــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ

۱؎    (سنن أبي داود،کتاب الزکاۃ، باب ما تجوز فيہ المسألۃ،الحديث:۱۶۴۱،ج۲،ص۲۰۰۔ ۲۰۱)

(سنن ابن ماجہ،کتاب التجارات، باب بيع المزايدۃ،الحديث:۲۱۹۸،ج۳،ص۳۸)

(مشکاۃ المصابيح،کتاب الزکاۃ، باب من لا تحل لہ المسألۃ ومن تحل لہ،الحديث:۱۸۵۱،ج۱،ص۳۵۲)
Flag Counter