حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے فرمايا: ايک روز حضرت موسیٰ علیہ السلام سمندر کے کنارے تشريف لے جارہے تھے کہ ايک مومن اور ايک کافر کو مچھلياں پکڑتے ديکھا مومن اللہ تعالیٰ کے ذکر ميں مشغول تھامگر شکارہاتھ نہيں آرہا تھا جبکہ کافر اپنے بتوں کا نام لے رہا تھا کہ اس کے جال ميں مچھلی آگئی تو موسیٰ علیہ السلام نے اس پر تعجب فرمايا، اللہ تعالیٰ نے آپ پر وحی نازل فرمائی: اے موسیٰ!دیکھو! آپ علیہ السلام نے ديکھا تو جنت میں ايک حوض پر سونے سے مومن بندے کا نام لکھا تھا جس ميں بے شمار مچھلياں تھيں اور جہنم ميں ايک آگ کا محل تھا جس پر کافر کا نام لکھا تھا اور اس ميں بے شمار سانپ اور بچھو تھے کہ جن کی تعداد کا علم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو نہيں، اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کو وحی فرمائی: اے موسیٰ !ميرے مومن بندے سے فرمائيے کہ اُسے سمندر کی مچھلیاں زيادہ پسند ہيں يا جنت کی نعمتيں؟ تو وہ شخص رويا اور عرض کی: اے رب! اگر تو مجھ سے رزق روکتا ہے تو ميں تيری رضا کی خاطر کھانے سے صبر کرتا ہوں تو مچھليوں سے کيوں نہ صبر کروں۔۱؎
ايک اور حديث شريف جس ميں حضورپاک، صاحب لولاک، سیاح افلاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ايک انصاری صحابی کو سوال سے بچنے کی ترغیب دی، چنانچہ: