| ضیائے صدقات |
عَنْ عُبَيد اللہِ بْنِ مُحْصِنٍ الْخُطَمِيِّ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ أَنَّ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: ''مَنْ أَصْبَحَ مِنْکُمْ آمِناً فِيْ سِرْبِہِ مُعَافًی فِيْ بَدَنِہِ، عِنْدَہُ قُوْتُ يومِہِ فَکَأَنَّمَا حِيزَتْ لَہُ الدُّنْيا بِحَذَافِيرھَا''.۱؎
حضرت عبيد اللہ بن محصن خطمی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے،کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سرور، دو جہاں کے تاجور، سلطان بحرو برصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمايا: جو شخص تم ميں سے صبح پائے کہ اُس کے دل ميں امن و امان ہو، اس کے جسم ميں تندرستی ہو، اُس کے پاس اُس دن کا کھانا ہو تو گويااُس کے لئے دنيا پوری کی پوری جمع کردی گئی۔
اس حدیث کی شرح میں مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں: سرب سين کے فتحہ يا کسرہ سے ر کے سکون سے بمعنی راستہ، چہرہ، سينہ، دل، نفس،يہاں بمعنی دل ہے، يعنی اس کو نہ دشمن کا خوف ہو، نہ عذابِ الٰہی کا خطرہ، کيونکہ اُس کا دشمن کوئی نہ ہو اور اُس نے کفر يا گناہ نہ کيا ہو، اہل عرب کہتے ہيںلَيسَ الْعِيد لِمَنْ لَبِسَ الْجَدِیْدَ إِنَّمَا الْعِيد لِمَنْ آمَنَ الَوَعِيد
يعنی عيد اُس کی نہيں جو نئے کپڑے پہن لے، بلکہ عيد اُسکی ہے جو عذاب سے امن ميں ہو۔۲؎
مدینـــــــــــــــــــــــــــــــــہ ۱؎ (سنن الترمذي،کتاب الزھد،۳۴۔ باب،الحديث:۲۳۴۶،ج۳،ص۳۰۵) (سنن ابن ماجہ،کتاب الزھد، باب القناعۃ،الحديث:۴۱۴۱،ج۴،ص۴۸۴) (مشکاۃ المصابيح،کتاب الرقاق،الفصل الثاني،الحديث:۵۱۹۱،ج۲،ص۲۴۷) ۲؎ (مرآۃ المناجيح شرح مشکاۃ المصابیح،ج۷،ص۲۸)