Brailvi Books

ضیائے صدقات
360 - 408
تو پہلی دو باتيں بھول چکا ہے تيسری بات کيسے بتاؤں، کيا ميں نے تجھے نہيں کہا تھا کہ گزری ہوئی بات پر افسوس نہ کرنا اور جو کام نہ ہوسکے اس کے ہونے کایقين نہ کرنا؟ ميں تو ايک گوشت، خون اور پروں کا مجموعہ ہوں اور يہ سب کچھ ملاکر بيس مثقال نہيں ہوسکتے تو ميرے پوٹے ميں بيس بيس مثقال کے دو موتی کيسے ہوسکتے ہيں؟ پھر وہ پرندہ اُڑ کر چلا گيا۔ يہ مثال انسان کے زيادہ لالچ کرنے سے متعلق ہے کہ اس کے سبب آدمی حق بات کو پانے سے اندھا ہوجاتا ہے حتی کہ جو کام نہ ہوسکتا ہو وہ اس کے بارے ميں خيال کرتا ہے کہ ہوجائے گا۔۱؎

    قناعت نہ ختم ہونے والا خزانہ ہے، چنانچہ:
عَنْ جَابِرٍرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ''الْقَنَاعَۃُ کَنْزٌ لَا يفنٰی''.۲؎
حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہيں: شہنشاہ مدینہ،قرارقلب و سینہ، صاحب معطر پسینہ، باعث نزول سکینہ، فیض گنجینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمايا: قناعت ایسا خزانہ ہے جو کبھی ختم نہیں ہوتا۔

    حضرت ابن سماک رحمۃ اللہ تعالیٰ عليہ فرماتے ہيں کہ اميد تيرے دل ميں ايک رسی ہے جو پاؤں کی بیڑی بنی ہوئی ہے تو دل سے اميد کو نکال دے تيرے پاؤں سے بیڑی خودبخود نکل جائے گی۔۳؎
مدینــــــــــــــــــــــــــــــــہ

۱؎    (إحياء علوم الدين،کتاب ذم البخل وذم حب المال، الآثار،ج۳،ص۳۲۱)

۲؎    (کتاب الزھد الکبير للبيھقي،الحديث:۱۰۴،ج۲،ص۸۸)

۳؎    (إحياء علوم الدين،کتاب ذم البخل وذم حب المال، الآثار،ج۳،ص۳۲۱)
Flag Counter