حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے فرماتے ہيں: نبی مکرم،نورمجسم، رسول اکرم، شہنشا ہ بنی آدم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمايا: لالچ سے بچو کيونکہ لالچ ہی فقر ہے اور اس کام سے بچو جس میں عذر کرنا پڑے۔
حضرت شعبی رحمۃ اللہ تعالیٰ عليہ فرماتے ہيں: منقول ہے کہ ايک شخص نے قنبرہ (چنڈول پرندہ) شکار کيا، اس نے کہا :تم ميرے ساتھ کيا کرنا چاہتے ہو؟ اس شخص نے کہا: ميں تجھے ذبح کرکے کھاؤں گا۔ پرندے نے کہا: اللہ کی قسم! نہ ميں تيری خواہش کو پورا کرسکتا ہوں اور نہ ہی مجھے کھا کر تو سير ہوگا البتہ ميں تجھے تين باتيں سکھاتا ہوں جو مجھے کھانے سے بہتر ہيں ايک بات تو ابھی سکھاؤں گا جبکہ تيرے قبضے ميں ہوں دوسری بات اس وقت سکھاؤں گا جب درخت پر چلا جاؤں اور تيسری بات اس وقت بتاؤں گا جب پہاڑ پر چلا جاؤں۔ اس آدمی نے کہا: پہلی بات بتاؤ ۔پرندے نے کہا: گزری ہوئی بات پر افسوس نہ کرنا۔ اس نے اسے چھوڑ ديا جب پرندہ درخت پر چلا گيا تو اس نے کہا :دوسری بات بتاؤ۔ پرندے نے کہا: جو کام نہ ہوسکے اس کے ہونے کا یقين نہ کرنا۔ پھر وہ اُڑ کر پہاڑپر جا بيٹھا اور کہا: اے بدبخت! اگر تو مجھے ذبح کرتا تو ميرے پوٹے ميں سے دو موتی نکالتا ہر موتی کا وزن بيس مثقال ہے۔ حضرت شعبی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہيں :يہ سن کر اس شخص کو افسوس ہوا اور کہا: تيسری بات بتا۔پرندے نے کہا: