Brailvi Books

ضیائے صدقات
35 - 408
اور:''اور وہ جن کے مال ميں ايک معلوم حق ہے اس کے لئے جو مانگے اور جو مانگ بھی نہ سکے تو محروم رہے '' (کنزالايمان) یہاں ''معلوم حق '' سے مراد زکوٰۃ ہے۔

    امام کاسانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ مزيد فرماتے ہيں،
وأما السنّۃ: فما ورد في المشاہير عن رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم : أنّہ قال: ''بُنِيَ الإْسْلَامُ عَلٰی خَمْسٍ: شَھَادَۃِ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللہُ، وَأَنَّ مُحَمَّداً رَّسُوْلُ اللہِ، وَإِقَامِ الصَّلَاۃِ، وَإِيتاءِ الزَّکَاۃِ، وَصَوْمِ رَمَضَانَ، وَحَجِّ الْبَيت مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيہ سَبِيلاً''،۱؎ وروي عنہ ۔عليہ الصلاۃ والسلام۔ أنَّہ قال عام حجۃ الوداع:
''اُعْبُدُوْا رَبَّکُمْ، وَصَلُّوْا خَمْسَکُمْ، وَصُوْمُوْا شَھْرَکُمْ، وَحُجُّوْا بَيتَ رَبِّکُمْ، وَأَدُّوْا زَکَاۃَ أَمْوَالِکُمْ طَيبۃً بِھَا أَنْفُسُکُمْ تَدْخُلُوْا جَنَّۃَ رَبِّکُمْ''۲؎.۳؎
    يعنی، جہاں تک سنتِ رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کا تعلق ہے تو جيسا کہ مشہور احاديث ميں رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم سے وارد ہے کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمايا، اسلام کی بناء پانچ باتوں پر ہے، گواہی دينا کہ اللہ تعالیٰ کے سواء کوئی معبود نہيں اور محمد [صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم ] اللہ تعالیٰ کے رسول ہيں، نماز کا قائم کرنا، زکوٰۃ کی ادائیگی، رمضان کے روزے اور بيت اللہ کا حج ہر اس شخص پر جو اس کی استطاعت رکھتا ہو۔ اور مروی ہے کہ آپ عليہ الصلاۃ والسلام نے حجۃ الوداع والے سال فرمايا، اپنے رب کی بندگی کرو،اپنی پانچ نمازيں پڑھو، اپنے ماہ (رمضان) کے روزے رکھو، اپنے رب کے گھر کا
مدینـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ

۱؎ (صحيح البخاري،کتاب الزکاۃ،باب دعاؤکم إيمانکم،الحديث:۸،ج۱،ص۱۰)

۲؎ (المسند للإمام أحمد،مسند أبي أمامۃ الباھلي،الحديث:۲۲۵۱۴،ج۷،ص۳۹۶)

۳؎ (بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع،کتاب الزکاۃ،ج۲،ص۳۷۱۔۳۷۳)
Flag Counter