Brailvi Books

ضیائے صدقات
358 - 408
عَنْ أَبِيْ أُمَامَۃَرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ أَنَّ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: ''يا اِبْنَ آدَمَ إِنَّکَ أَنْ تَبْذُلَ الْفَضْلَ خَير لَکَ، وَأَنْ يمسِکَہُ شَرٌّ لَّکَ، وَلَا تُلَامُ عَلٰی کَفَافٍ، وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُوْلُ، وَالْيد الْعُلْيا خَير مِّنَ الْيد السُّفْلٰی''.۱؎
حضرت ابو امامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے، فرماتے ہيں: آقائے مظلوم، سرورمعصوم، حسن اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، محبوب ر ب اکبر صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمايا: اے ابن آدم! بچے ہوئے کا خرچ کرنا تيرے لئے بہتر ہے اور اس کا روکنا تيرے لئے بُرا ہے اور بقدر ضرورت روکنے پر ملامت نہیں اوران سے شروع کر جو تیری پرورش میں ہیں اور اوپر والا ہاتھ نيچے والے ہاتھ سے بہتر ہے۔ 

    مفتی احمدیار خان نعیمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں: يعنی اپنی ضروريات سے بچا ہوا مال خرچ کردينا خود تيرے لئے ہی مفيد ہے کہ اس سے تيرا کوئی کام نہ رُکے گا اور تجھے دنيا وآخرت ميں عوض مل جائے گا، اور اسے روکے رکھنا خود تيرے لئے ہی بُرا ہے کيونکہ وہ چيز سڑ گل يا اور طرح ضائع ہوجائے گی اور تُو ثواب سے محروم ہوجائے گا، اسی لئے حکم ہے کہ نيا کپڑا پاؤ تو پرانا کپڑا خيرات کردو، نيا جوتا رب تعالیٰ دے تو پرانا جوتا جو تمہاری ضرورت سے بچا ہوا ہے کسی فقير کو دے دو کہ تمہارے گھر کا کوڑا نکل جائے گا اور اُس کا بھلا ہوجائے گا۔۲؎
مدینــــــــــــــــــــــہ

۱؎    (صحيح مسلم،کتاب الزکاۃ،باب بيان أن اليد العليا خير من اليد السفلی...إلخ،الحديث:۱۰۳۶، ص۳۷۱)

(مشکاۃ المصابيح،کتاب الزکاۃ،باب الإنفاق وکراھيۃ الإمساک،الحديث:۱۸۶۳،ج۱،ص۳۵۴)

۲؎    (مرآۃ المناجيح شرح مشکاۃ المصابیح،ج۳،ص۷۰)
Flag Counter