Brailvi Books

ضیائے صدقات
357 - 408
کا بڑا ہی کرم و فضل ہوگيا، وہ کامياب رہا اور دنيا سے کامياب گيا۔۱؎

    ابو محمد يزيدی فرماتے ہيں: ميں ہارون الرشيد کے پاس گيا تو ديکھا کہ وہ ايک کاغذ کو ديکھ رہا ہے جس کی تحرير سونے کی ہے جب مجھے ديکھا تو ہنس پڑا ميں نے کہا: اللہ تعالیٰ امير المؤمنين کو سلامت رکھے کيا کوئی فائدہ مند چيز ہے؟ اس نے کہا: ہاں ميں نے بنو اميہ کے ايک خزانے کو ان دو شعروں ميں پايا تو ان کو اچھا سمجھا اور ان کے ساتھ تيسرا شعر بھی ملا ديا ،پھرمجھے وہ شعر سنائے ؎
إِذَا سَدَّ بَابٌ عَنْکَ مِنْ دُوْنِ حَاجَۃٍ

فَدَعْہُ لِأُخْرٰی ينفَتِحُ لَکَ بَابُھَا

فَإِنَّ قِرَابَ الْبَطْنِ يکْفِيکَ مِلْؤُہٗ

وَيکْفِيکَ سَوَآتُ الْأُمُوْرِ اجْتِنَابُھَا

وَلَا تَکُ مِبْذَالاً لِعِرْضِکَ وَاجْتَنِبْ

رُکُوْبَ الْمَعَاصِيْ يجْتَنِبْکَ عِقَابُہَا
    جب تیری حاجت پوری ہوئے بغیر ايک دروازہ بند ہوجائے تو اس کو دوسری حاجت کے لئے چھوڑ دے تيرے لئے اس کا دروازہ کھل جائے گا پيٹ کے مشکيزے کا بھر جانا تيرے لئے کافی ہے اور برائی کے کاموں سے پرہيز بھی کافی ہے، اپنی عزّت کو داؤ پر نہ لگا اور گناہوں پر سوار ہونے سے بچ سزا سے بچ جائے گا۔۲؎

    ضروريات سے باقی ماندہ خرچ کرنے ميں بھی فضيلت ہے، چنانچہ:
مدینـــــــــــــــــــــــہ

۱؎    (مرآۃ المناجيح شرح مشکاۃ المصابیح،ج ۵،ص۹)

۲؎ (إحياء علوم الدين،کتاب ذم البخل وذم حب المال، الآثار،ج۳،ص۳۲۱)
Flag Counter