| ضیائے صدقات |
ترجمہ: ان فقيروں کے لئے جو راہِ خدا ميں روکے گئے (کنزالايمان[البقرۃ:۳/۲۷۳]) خيال رہے کہ جس مسکينيت کی دعا حضور انورصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے مانگی ہے وہ مسکينيت دل ہے يعنی دل ميں عجز و انکسار ہونا، تکبّر وغرور نہ ہونا، ايسا شخص اگر مالدار بھی ہو تو مبارک مسکين ہے، اور جن احاديث ميں فقر و مسکينيت سے پناہ مانگی گئی ہے وہ ايسی تنگدستی ہے جو فتنہ ميں مبتلا کردے، لہٰذا احاديث ميں تعارض نہيں اور نہ اعتراض ہے کہ حضور انورصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے تو مسکينيت کی دعا کی مگر رب تعالیٰ نے حضور انورصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو بادشاہ بناديا يہ دعا قبول نہ ہوئی۔۱؎
جس نے بکفايت رزق پايا اور قناعت کی وہ کامیاب ہے۔ چنانچہ:عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللہُ عَنْھُمَا أَنَّ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: ''قَدْ أَفْلَحَ مَنْ أَسْلَمَ، وَرُزِقَ کَفَافاً، وَقَنَّعَہُ اللہُ بِمَا آتَاہُ''.۲؎
حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے،کہسرکاروالا تبار، ہم بے کسوں کے مددگار، شفیع روزشمار، دو عالم کے مالک و مختار، حبیب پروردگارصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمايا: وہ کامياب ہوگيا جو مسلمان ہوا اور بقدرِ کفايت رزق ديا گيا اور اللہ نے اُسے اپنے عطا کردہ پر قناعت دی۔
حکیم الامت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں:يعنی جسے ايمان و تقویٰ بقدر ضرورت مال اور تھوڑے مال پر صبر يہ چار نعمتيں مِل گئيں، اُس پر اللہمدینــــــــــــــــــــــــــــــــہ ۱؎ (مرآۃ المناجيح شرح مشکاۃ المصابیح،ج ۳،ص۴۹) ۲؎ (صحيح مسلم، کتاب الزکاۃ، باب في الکفاف والقناعۃ،الحديث:۱۰۵۴،ص۳۷۶) (سنن الترمذي،کتاب الزھد،باب ما جاء في الکفاف والصبرعليہ،الحديث:۲۳۴۸،ج۳،ص۳۰۷) (مشکاۃ المصابيح،کتاب الرقاق، الفصل الأول،الحديث:۵۱۶۵،ج۲،ص۲۴۳)