Brailvi Books

ضیائے صدقات
355 - 408
عَنْ أَبِيْ ھُرَيرۃَرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ أَنَّ رَسُوْلَاللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: ''لَيسَ الْمِسْکِين الَّذِيْ تَرُدُّہُ اللُّقْمَۃُ وَاللُّقْمَتَانِ، وَالتَّمْرَۃُ وَالتَّمْرَتَانِ، وَلٰکِنَّ الْمِسْکِين الَّذِيْ لَا يجِدُ غِنًی يغْنِيہ، وَلَا يفطَنُ لَہُ فَيتَصَدَّقُ عَلَيہ، وَلَا يقُوْمُ فَيسالُ النَّاسَ''.۱؎
حضرت ابو ہريرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ شہنشاہ خوش خصال، پیکر حسن وجمال، دافع رنج و ملال، صاحب جودو نوال، رسول بے مثال بی بی آمنہ کے لالصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمايا: مسکين وہ نہيں جسے ايک دو لقمے يا ايک دو چھوہارے لوٹا دیں بلکہ مسکين وہ ہے کہ اتنا نہ پائے جو اسے لوگوں سے بے نیاز کردے اور اُسے پہچانا بھی نہ جائے کہ اُسے صدقہ ديا جائے اور نہ ہی خود اٹھ کر لوگوں سے سوال کرے۔

    يعنی جس مسکينيت پر ثواب ہے اور صابروں کے زمرہ ميں داخل ہے وہ يہ بھکاری فقير نہيں ہے بلکہ يہ تو عام حالات ميں اسی سوال پر گنہگار ہے کہ جب وہ بھيک مانگنے کے لئے اتنی دَوڑ دھوپ کرسکتا ہے تو وہ کمانے کے لئے بھی کرسکتا ہے، ہاں صابر وہ مسکين ہے جو حاجت مند ہو مگر پھر کسی پر اپنی حاجت ظاہر نہ کرے، اپنے فقر کو چھپانے کی کوشش کرے، اسی مسکين کی رب تعالیٰ نے قرآن پاک ميں تعريف فرمائی ہے کہ فرمايا:
(لِلْفُقَرَآءِ الَّذِیۡنَ اُحۡصِرُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللہِ)،   الآیۃ
مدینـــــــــــــــــــــــہ

۱؎    (صحيح البخاري،کتاب الزکاۃ، باب قول اللہ تعالیٰ:(لَا يسالُوْنَ النَّاسَ إِلْحَافاً) وکَمِ الغنی، الحديث:۱۴۷۹،ج۱،ص۳۶۴)

(صحيح مسلم،کتاب الزکاۃ،باب المسکين الذي لا ےجد غنی...إلخ،الحديث:۱۰۳۹،ص۳۷۲)

(سنن أبي داود،کتاب الزکاۃ،باب من يعطی من الصدقۃ وحد الغنی،الحديث:۱۶۳۱،ج۲،ص۱۹۳)

(سنن النسائي،کتاب الزکاۃ، باب تفسير المسکين،الحديث:۲۵۷۱،ج۳،الجزئ۵،ص۹۰)

(مشکاۃ المصابيح،کتاب الزکاۃ، باب من لا تحل لہ الصدقۃ،الحديث:۱۸۲۸،ج۱،ص۳۴۷)
Flag Counter