Brailvi Books

ضیائے صدقات
352 - 408
شرح ہے
أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِيْ بِيْ
يعنی رب تعالیٰ فرماتا ہے کہ ميں اپنے بندے کے گمان کے قريب رہتا ہوں اس کا ظہور آخرت ميں تو ہوگا ہی کہ اگر بندہ معافی کی امّيد کرتا ہوا مرجائے تو ان شاء اللہ اُسے معافی ہی ملے گی، اکثر دنيا ميں بھی ہوجاتا ہے کہ جو قرض نہ لينے نہ مانگنے کا خدا کے بھروسے پر پورا ارادہ کرلے تو اللہ تعالیٰ اسے ان سے بچا ہی ليتا ہے اور جو يہ کوشش کرے کہ دنيا والوں سے لاپرواہ رہوں تو بہت حد تک اللہ تعالیٰ اُسے لاپرواہ ہی رکھتا ہے، مگر يہ فقط زبانی دعویٰ نہ ہو عملی کوشش بھی ہو کہ کمانے ميں مشغول رہے، خرچ درميانہ رکھے، گُل چھرّے نہ اُڑائے اللہ رسول سچّے ہيں ان کے وعدے حق، غلطی ہم کرجاتے ہيں۔

    ''جو صبر چاہے اللہ تعالیٰ اُسے صبر عطا کریگا''اس کے تحت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:رب تعالیٰ کی عطاؤں ميں سے بہترين اور بہت گنجائش والی عطا صبر ہے کہ رب تعالیٰ نے اس کا ذکر نماز سے پہلے فرمايا:
(وَاسْتَعِیۡنُوۡا بِالصَّبْرِ وَالصَّلٰوۃِ ؕ)
ترجمہ: صبر اور نماز سے مدد چاہو (کنزالايمان[البقرۃ:۲/۱۵۳]) اور صابر کے ساتھ اللہ ہوتا ہے، نيز صبر کے ذريعہ انسان بڑی بڑی مشقتيں برداشت کرليتاہے اور بڑے بڑے درجے حاصل کرليتا ہے، رب تعالیٰ نے ايوب علیہ السلام کے بارے ميں فرمايا:
(اِنَّا وَجَدْنٰہُ صَابِرًا ؕ)
ہم نے انہيں بندئہ صابر پايا،[ص:۴۴]                                                                     صبر ہی کی برکت سے حضرت حسين رضی اللہ تعالیٰ عنہ سيد الشہداء ہوئے۔۱؎

    اور غِنَاء کثرتِ مال کا نام نہيں بلکہ اصل غِنَاء تو دل کی تونگری ہے، چنانچہ:
مدینـــــــــــــــــــــــہ

۱؎    (مرآۃ المناجيح شرح مشکاۃ المصابیح،ج ۳،ص۵۹۔۶۰)
Flag Counter