يعنی رب تعالیٰ فرماتا ہے کہ ميں اپنے بندے کے گمان کے قريب رہتا ہوں اس کا ظہور آخرت ميں تو ہوگا ہی کہ اگر بندہ معافی کی امّيد کرتا ہوا مرجائے تو ان شاء اللہ اُسے معافی ہی ملے گی، اکثر دنيا ميں بھی ہوجاتا ہے کہ جو قرض نہ لينے نہ مانگنے کا خدا کے بھروسے پر پورا ارادہ کرلے تو اللہ تعالیٰ اسے ان سے بچا ہی ليتا ہے اور جو يہ کوشش کرے کہ دنيا والوں سے لاپرواہ رہوں تو بہت حد تک اللہ تعالیٰ اُسے لاپرواہ ہی رکھتا ہے، مگر يہ فقط زبانی دعویٰ نہ ہو عملی کوشش بھی ہو کہ کمانے ميں مشغول رہے، خرچ درميانہ رکھے، گُل چھرّے نہ اُڑائے اللہ رسول سچّے ہيں ان کے وعدے حق، غلطی ہم کرجاتے ہيں۔
''جو صبر چاہے اللہ تعالیٰ اُسے صبر عطا کریگا''اس کے تحت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:رب تعالیٰ کی عطاؤں ميں سے بہترين اور بہت گنجائش والی عطا صبر ہے کہ رب تعالیٰ نے اس کا ذکر نماز سے پہلے فرمايا: