Brailvi Books

ضیائے صدقات
351 - 408
أَعْطَی اللہُ أَحَداً عَطَاءً ھُوَ خَير لَّہُ، وَأَوْسَعُ مِنَ الصَّبْرِ''.۱؎
اللہ اُسے بچائے گا اور جو غنی بننا چاہے اللہ اُسے غنی کر دیگا اور جو صبر چاہے اللہ تعالیٰ اُسے صبر عطا کریگا اور اللہ نے صبر سے بہتر اور وسيع عطا کسی کو نہ دی۔

    اس حدیث کی شرح میں حکیم الامت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:وہ حضرات مانگتے رہے اور حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ديتے رہے انہيں سب کچھ دے کر مسئلہ بتايا، اس ميں تبلیغ بھی ہے اور سخاوت مطلقہ کا اظہار بھی معلوم ہوا کہ بلا ضرورت مانگنے والوں کو دينا حرام نہيں اگرچہ انہيں مانگنا ممنوع ہے خيال رہے کہ جس کو حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے کچھ خوش ہوکر ديا ہے وہ بہت عرصہ تک ختم نہ ہوا، چنانچہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور حضرت ابو ہريرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو تھوڑے تھوڑے جو عطا فرمائے تھے جو اُن بزرگوں نے سالہا سال کھائے اور کھلائے، پھر جب تولے تو اتنے ہی تھے مگر تولنے سے ختم ہوگئے، حضرت طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہاں ساڑھے چار سَير جَو کی روٹی پر سينکڑوں آدميوں کی دعوت فرمائی۔

    حکیم الامت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ مزید فرماتے ہیں:يہ حديث اس حديث قدسی کی
مدینــــــــــــــــــہ

۱؎    (سنن الدارمي،کتاب الزکاۃ، باب في الاستعفاف عن المسألۃ،الحديث:۱۶۵۲،ص۴۸۱)

(صحيح البخاري،کتاب الزکاۃ،باب الاستعفاف عن المسألۃ،الحديث:۱۴۶۹،ج۱،ص۳۶۱)

(صحيح مسلم، کتاب الزکاۃ، باب فضل التعفف والصبر،الحديث:۱۰۵۳،ص۳۷۶)

(سنن أبي داود،کتاب الزکاۃ، باب في الاستعفاف،الحديث:۱۶۴۴،ج۲،ص۲۰۲)

(سنن الترمذي،کتاب البر والصلۃ، باب ما جاء في الصبر،الحديث:۲۰۲۴،ج۳،ص۱۲۳)

(سنن النسائي،کتاب الزکاۃ، باب الاستعفاف عن المسألۃ،الحديث: ۲۵۸۷،ص۱۰۰)

(مشکاۃ المصابيح،کتاب الزکاۃ،باب من لا تحل لہ المسألۃ ومن تحل لہ،الحديث:۱۸۴۴،ج۱،ص۳۵۰)
Flag Counter