اللہ اُسے بچائے گا اور جو غنی بننا چاہے اللہ اُسے غنی کر دیگا اور جو صبر چاہے اللہ تعالیٰ اُسے صبر عطا کریگا اور اللہ نے صبر سے بہتر اور وسيع عطا کسی کو نہ دی۔
اس حدیث کی شرح میں حکیم الامت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:وہ حضرات مانگتے رہے اور حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ديتے رہے انہيں سب کچھ دے کر مسئلہ بتايا، اس ميں تبلیغ بھی ہے اور سخاوت مطلقہ کا اظہار بھی معلوم ہوا کہ بلا ضرورت مانگنے والوں کو دينا حرام نہيں اگرچہ انہيں مانگنا ممنوع ہے خيال رہے کہ جس کو حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے کچھ خوش ہوکر ديا ہے وہ بہت عرصہ تک ختم نہ ہوا، چنانچہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور حضرت ابو ہريرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو تھوڑے تھوڑے جو عطا فرمائے تھے جو اُن بزرگوں نے سالہا سال کھائے اور کھلائے، پھر جب تولے تو اتنے ہی تھے مگر تولنے سے ختم ہوگئے، حضرت طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہاں ساڑھے چار سَير جَو کی روٹی پر سينکڑوں آدميوں کی دعوت فرمائی۔
حکیم الامت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ مزید فرماتے ہیں:يہ حديث اس حديث قدسی کی