Brailvi Books

ضیائے صدقات
353 - 408
عَنْ أَبِيْ ھُرَيرۃَرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: ''لَيسَ الْغِنٰی عَنْ کَثْرَۃِ الْعَرَضِ، وَلٰکِنَّ الْغِنٰی غِنَی النَّفْسِ''.۱؎
حضرت ابو ہريرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے، فرماتے ہيں: سید المبلغین، رحمۃللعالمین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمايا: اميری زيادہ مال و اسباب سے نہيں بلکہ اميری دل کی غنا سے ہے۔

    حکیم الامت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اس حدیث کی تشریح کرتے ہوئے رقم طراز ہیں:دل کی غنا سے مراد قناعت وصبر، رضا بر قضا ہے۔ حريص مالدار فقير ہے قناعت والا غريب امير ہے، شعر

توانگری نہ بمال است نزد اہل کمال ز کہ مال تَا لَبِ گور است بعد ازاں اعمال

(يعنی اہلِ کمال کے ہاں تونگری وخوشحالی مال سے نہيں کہ مال تو قبر کے کنارے تک ہے اس کے بعد تو اعمال ہيں)ہوسکتا ہے کہ غنی نفس سے مراد کمالات روحانيہ ہوں کہ اس کی برکت سے دولت مند اس کے دروازہ کی خاک چاٹتے ہيں ديکھ لو داتا گنج بخش اور خواجہ اجميری کے آستانے رضی اللہ تعالیٰ عنہما ۔ حضرت علی فرماتے ہيں، شعر
مدینـــــــــــــــہ

۱؎    (صحيح البخاري،کتاب الرقاق، باب الغنی غنی النفس،الحديث:۶۴۴۶،ج۴،ص۱۹۷)

(صحيح مسلم،کتاب الزکاۃ،باب ليس الغنی عن کثرۃ العرض،الحديث:۱۰۵۱،ص۳۷۵)

(سنن الترمذي،کتاب الزھد، باب ما جاء أن الغنی غنی النفس،الحديث:۲۳۷۳،ج۳،ص۳۱۸)

(سنن ابن ماجہ،کتاب الزھد، باب القناعۃ،الحديث:۴۱۳۷،ج۴،ص۴۸۲)

(مشکاۃ المصابيح،کتاب الرقاق، الفصل الأول،الحديث:۵۱۷۰،ج۲،ص۲۴۴)
Flag Counter