حضرت ابو ہريرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے، فرماتے ہيں: سید المبلغین، رحمۃللعالمین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمايا: اميری زيادہ مال و اسباب سے نہيں بلکہ اميری دل کی غنا سے ہے۔
حکیم الامت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اس حدیث کی تشریح کرتے ہوئے رقم طراز ہیں:دل کی غنا سے مراد قناعت وصبر، رضا بر قضا ہے۔ حريص مالدار فقير ہے قناعت والا غريب امير ہے، شعر
توانگری نہ بمال است نزد اہل کمال ز کہ مال تَا لَبِ گور است بعد ازاں اعمال
(يعنی اہلِ کمال کے ہاں تونگری وخوشحالی مال سے نہيں کہ مال تو قبر کے کنارے تک ہے اس کے بعد تو اعمال ہيں)ہوسکتا ہے کہ غنی نفس سے مراد کمالات روحانيہ ہوں کہ اس کی برکت سے دولت مند اس کے دروازہ کی خاک چاٹتے ہيں ديکھ لو داتا گنج بخش اور خواجہ اجميری کے آستانے رضی اللہ تعالیٰ عنہما ۔ حضرت علی فرماتے ہيں، شعر