Brailvi Books

ضیائے صدقات
350 - 408
وَسَلَّمَ : ''الْيَدُ الْعُلْيَا خَير مِنَ الْيد السُّفْلٰی، وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُوْلُ، وَخَير الصَّدَقَۃِ مَا کَانَ عَنْ ظَھْرِ غِنًی، وَمَنْ يسْتَعْفِفْ يعفُّہُ اللہُ، وَمَنْ يسْتَغْنِ يغْنِہِ اللہُ''.۱؎
اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمايا: اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے اور ان سے ابتداء کر جو تیری پرورش میں ہیں اور اچھا صدقہ وہ ہے جس کے بعدتونگری باقی رہے اور جو سوال سے بچنا چاہے اللہ عزوجل اُسے بچا لے گا اور جو غنی بننا چاہے اللہ اسے غنی کردے گا۔

    سوال کی مذمت ميں ايک اور حديث شريف:
عَنِ أَبِيْ سَعِيد الْخُدْرِيِّ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ أَنَّ أُنَاساً مِنَ الْأَنْصَارِ سَأَلُوْا رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَأَعْطَاھُمْ، ثُمَّ سَأَلُوْہُ فَأَعْطَاھُمْ، ثُمَّ سَأَلُوْہُ فَأَعْطَاھُمْ، حَتّٰی إِذَا نَفِدَ مَا عِنْدَہُ قَالَ: ''مَا يکوْنُ عِنْدِيْ مِنْ خَير فَلَنْ أَدَّخِرَہُ عَنْکُمْ، وَمَنِ اسْتَعَفَّ يعفَّہُ اللہُ، وَمَنْ يسْتَغْنِ يغْنِہِ اللہُ، وَمَنْ يتَصَبَّرْ يصبِّرْہُ اللہُ، وَمَا
حضرت ابو سعيد خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ کچھ انصاری لوگوں نے حضور پاک، صاحب لولاک، سیاح افلاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے سوال کیاحضور نے انہيں ديا انہوں نے پھر مانگاحضور نے عطافرمایا پھر انہوں نے مانگا حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے عطا فرمایا حتی کہ وہ مال جو آپ کے پاس تھا ختم ہوگيا، آپ نے فرمايا: جو کچھ مال ميرے پاس ہوگا وہ تم سے ہرگز بچا نہ رکھوں گا،اور جو سوال سے بچنا چاہے
مدینــــــــــــــــــــــــــہ

۱؎    (صحيح البخاري،کتاب الزکاۃ،باب لا صدقۃ إلا عن ظھرغنی،الحديث:۱۴۲۷،ج۱،ص۳۵۰)
Flag Counter