| ضیائے صدقات |
عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ مَسْعُوْدٍرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : ''الْأَيدي ثَلَاثَۃُ أَیْدٍ فَيد اللہِ الْعُلْيا وَيد الْمُعْطِي الَّتِيْ تَلِيھا وَيد السَّاءِلِ أَسْفَلُ إِلٰی يومِ الْقِيامَۃِ فَاسْتَعِفُّوْا مِنَ السُّؤَالِ مَا اسْتَطَعْتُمْ، وَمَنْ أَعْطَاہُ اللہُ خَيراً فَلْير عَلَيہ، وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُوْلُ، وَارْتَضِخْ مِنَ الْفَضْلِ، وَلَا تُلَامُ عَلَی کَفَافٍ وَلَا تَعْجِزْ عَنْ نَفْسِکَ''.۱؎
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہيں: شہنشاہ مدینہ،قرارقلب و سینہ، صاحب معطر پسینہ، باعث نزول سکینہ، فیض گنجینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمايا: ہاتھ تين ہیں ایک اللہ عزوجل کا ہاتھ ہے جو سب سے اوپر ہے ، اور دوسرا دینے والے کا ہاتھ ہے جو اس کے نزدیک ہے اور تیسرا مانگنے والے کا ہاتھ ہے جو قیامت تک سب سے نیچے ہے لہذا جس قدر ممکن ہو سوال کرنے سے بچو اور جسے اللہ تعالیٰ کوئی نعمت عطا کرے تو چاہيے کہ وہ اس پر نظر بھی آئے اور (خرچ کرنے میں) ان سے شروع کر جو تیری پرورش میں ہیں اور اپنی ضرورت سے زائد مال میں سے صدقہ کر،بقدر ضرورت روکنے پر ملامت نہیں اور خود کو محروم نہ رکھو۔
ايک اور حديث شريف:عَنْ حَکِيم بْنِ حِزَامٍرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ
حضرت حکيم بن حزام رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہيں:نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سرور، دو جہاں کے تاجور، سلطان بحرو برصلی
مدینــــــــــــــــــــــــــــہ ۱؎ (السنن الکبری للبيھقي،کتاب الزکاۃ، باب بيان اليد العليا واليدالسفلی،الحديث:۷۸۸۶،ج۴،ص۳۳۳)