امام کاسانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہيں،
فالدليل علی فرضيتہا الکتاب، والسنۃ والإجماع، والمعقول: أما الکتاب فقولہ تعالی:
(خُذْ مِنْ اَمْوَالِہِمْ صَدَقَۃً تُطَہِّرُہُمْ وَتُزَکِّیۡہِمۡ بِہَا)
وَ الَّذِیۡنَ فِیۡۤ اَمْوَالِہِمْ حَقٌّ مَّعْلُوۡمٌ ﴿۲۴﴾۪ۙلِّلسَّآءِلِ وَ الْمَحْرُوۡمِ ﴿۲۵﴾
[المعارج:۷۰/۲۴۔۲۵] الحق المعلوم ہو الزکاۃ.
زکوٰۃ کی فرضيت کتاب اللہ، سنتِ رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم ، اِجماعِ اُمّت اور قیاس سے ثابت ہے۔ جہاں تک کتاب اللہ عزوجل کا تعلق ہے تو اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ''اور زکوٰۃ دو '' (کنزالايمان) اور : ''اے محبوب ان کے مال ميں سے زکوٰۃتحصيل کرو جس سے تم انہيں ستھرا اور پاکيزہ کردو ''(کنزالايمان)
مدینـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ
۱؎ (بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع،کتاب الزکاۃ، ص۲۷۱،ج۲)