Brailvi Books

ضیائے صدقات
34 - 408
ابو بکر بن مسعود کاسانی حنفی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ متوفی ۵۸۷ھ فرماتے ہيں،
الزکاۃ في الأصل نوعان: فرض، وواجب؛ فالفرض زکاۃ المال، والواجب زکاۃ الرأس وھي صدقۃ الفطر.۱؎
    يعنی، زکوٰۃ کی دراصل دو قسميں ہيں: ايک فرض اور دوسری واجب۔ جہاں تک فرض کا تعلق ہے تو وہ مال کی زکوٰۃ ہے اور رہی بات واجب کی تو وہ جان کا صدقہ ہے اور وہ صدقہ فطر ہے۔
زکوٰۃ کی فرضيت:
    امام کاسانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہيں،
فالدليل علی فرضيتہا الکتاب، والسنۃ والإجماع، والمعقول: أما الکتاب فقولہ تعالی:
(وَآتُو الزَّکٰوۃَ)
[البقرۃ:۲/۴۳]
وقولہ عزوجل:
 (خُذْ مِنْ اَمْوَالِہِمْ صَدَقَۃً تُطَہِّرُہُمْ وَتُزَکِّیۡہِمۡ بِہَا)
[التوبۃ:۹/۱۰۳]
وقولہ عزوجل:
وَ الَّذِیۡنَ فِیۡۤ اَمْوَالِہِمْ حَقٌّ مَّعْلُوۡمٌ ﴿۲۴﴾۪ۙلِّلسَّآءِلِ وَ الْمَحْرُوۡمِ ﴿۲۵﴾
[المعارج:۷۰/۲۴۔۲۵] الحق المعلوم ہو الزکاۃ.
    زکوٰۃ کی فرضيت کتاب اللہ، سنتِ رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم ، اِجماعِ اُمّت اور قیاس سے ثابت ہے۔ جہاں تک کتاب اللہ عزوجل کا تعلق ہے تو اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ''اور زکوٰۃ دو '' (کنزالايمان) اور : ''اے محبوب ان کے مال ميں سے زکوٰۃتحصيل کرو جس سے تم انہيں ستھرا اور پاکيزہ کردو ''(کنزالايمان)
مدینـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ

۱؎ (بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع،کتاب الزکاۃ، ص۲۷۱،ج۲)
Flag Counter