| ضیائے صدقات |
وَمَنْ کَانَ يؤْمِنُ بِاللہِ وَالْيومِ الْآخِرِ، فَلْيکرِمْ ضَيفہُ، وَمَنْ کَانَ يؤْمِنُ بِاللہِ وَالْيومِ الْآخِرِ فَلْيقُلْ خَيراً أَوْ لِيسْکُتْ إِنَّ اللہَ يحبُّ الْغَنِيَّ الْحَلِيم الْمُتَعَفِّفَ، وَيبغَضُ الْبَذِيَّ الْفَاجِرَ السَّاءِلَ الْمُلِحَّ''. رواہ البزار.۱؎
اور جو اللہ اور يومِ آخرت پر ايمان رکھتا ہے اسے چاہے کہ اپنے مہمان کا احترام کرے اور جو اللہ اور روزِ قيامت پر ايمان رکھتا ہو اسے چاہے کہ اچھی بات کہے يا خاموش رہے، بے شک اللہ تعالیٰ سوال سے بچنے والے غنی بردبار کو پسند فرماتا ہے اور بدگو فاجر باصرار مانگنے والے کوناپسند فرماتا ہے۔
کسی دانا سے پوچھا گيا کہ سمجھدار کے لئے زيادہ خوشی کا باعث کيا چيز ہے اور غم دور کرنے ميں کون سی چيز زيادہ معاون ثابت ہوسکتی ہے؟ انہوں نے جواب ديا: اس کے لئے زيادہ خوشی کا باعث وہ نيک اعمال ہيں جو اس نے آگے بھیجے ہوں اور اس کا غم اسی وقت دور ہوسکتا ہے جب وہ اللہ تعالیٰ کے فيصلے پر راضی ہو۔۲؎
جہنم ميں داخل ہونے والے پہلے تين اشخاص ميں فاجر فقير بھی شامل ہے:عَنْ أَبِيْ ھُرَيرۃَرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : ''عُرِضَ عَلَيَّ أَوَّلُ
حضرت ابو ہريرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہيں، آقائے مظلوم، سرورمعصوم، حسن اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، محبوب ر ب اکبرصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمايا: مجھ پر وہ تين
مدینـــــــــــــــــــــــــــہ ۱؎ (الترغيب والترھيب،کتاب الصدقات، فصل، الترھيب من المسألۃ وتحريمھا مع الغنی،الحديث:۳۱، ج۱،ص۳۰۱) ۲؎ (إحياء علوم الدين،کتاب ذم البخل وذم حب المال، الآثار،ج۳،ص۳۲۰)