| ضیائے صدقات |
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللہُ عَنْھُمَا قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : ''اِسْتَغْنُوْا عَنِ النَّاسِ، وَلَوْ بِشُوْصِ السِّوَاکِ''.۱؎
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے فرماتے ہيں: تاجداررسالت، شہنشاہ نبوت، مخزنِ جودوسخاوت، پیکر عظمت و شرافت،محبوب ر ب العزت، محسن انسانیت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمايا: لوگوں سے مانگنے سے احتراز کرو اگرچہ مسواک ہی کیوں نہ ہو۔
حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہيں: بے شک لالچ فقر ہے اور (لوگوں سے) نااميدی، مالداری ہے جو شخص لوگوں کے پاس موجود چيزوں سے نااميد ہوجائے تو وہ لوگوں سے بے نيازہوجاتا ہے۔
کسی دانا سے پوچھا گيا کہ مالداری کيا ہے؟ انہوں نے جواب ديا: تيرا خواہش کم کرنا اور جو کچھ موجود ہو اسی پرراضی رہنا مالداری ہے۔۲؎
باصرارمانگنے والے کو اللہ تعالیٰ ناپسند فرماتا ہے (نعوذ باللہ من ذلک)، چنانچہ:عَنْ أَبِيْ ھُرَيرۃَرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: ''لَا يؤْمِنُ عَبْدٌ حَتّٰی يامَنَ جَارُہُ بَوَاءِقَہُ
حضرت ابو ہريرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سرکاروالا تبار، ہم بے کسوں کے مددگار، شفیع روزشمار، دو عالم کے مالک و مختار، حبیب پروردگار صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے روايت فرماتے ہيں کہ آپ نے فرمايا: بندہ اس وقت تک مومن نہيں ہوتا جب تک اس کا ہمسايہ اس کی شرارتوں سے محفوظ نہ ہو
مدینــــــــــــــــــــــــہ ۱؎ (المعجم الکبير للطبراني،الحديث:۱۲۲۵۷،ج۱۱،ص۴۴۴) ۲؎ (إحياء علوم الدين،کتاب ذم البخل وذم حب المال، الآثار،ج۳،ص۳۲۰)