Brailvi Books

ضیائے صدقات
347 - 408
ثَلَاثَۃٍ يدخُلُوْنَ الْجَنَّۃَ، وَأَوَّلُ ثَلَاثَۃٍ يدخُلُوْنَ النَّارَ، فَأَمَّا أَوَّلُ الثَّلَاثَۃِ يدخُلُوْنَ الْجَنَّۃِ: فَالشَّھِيد، وَعَبْدٌ مَمْلُوْکٌ أَدّٰی حَقَّ اللہِ وَنَصَحَ لِسَيدہِ، وَفَقِير مُتَعَفِّفٌ ذُوْ عِيالٍ، وَأَمَّا أَوَّلُ ثَلَاثَۃٍ يدخُلُوْنَ النَّارَ فَسُلْطَانٌ مُسَلِّطٌ وَذُوْ ثَرْوَۃٍ مِنَ الْمَالِ لَمْ يعطِ حَقَّ مَالِہِ وَفَقِير فَجُوْرٌ''.۱؎
شخص پیش کئے گئے جو پہلے جنت ميں جائيں گے اور وہ تين بھی جو پہلے جہنم ميں جائيں گے۔وہ تين جو پہلے جنت ميں جائيں گے ان ميں ايک شہيد ہے، دوسرا وہ غلام جواللہ عزوجل کا حق ادا کرے اور اپنے آقا کے لئے مخلص ہو اور وہ محتاج عیال دارجو سوال سے پرہيز کرے اوروہ تين جو پہلے جہنم ميں جائيں گے ان ميں ايک زبردستی مسلط حاکم ہے دوسرا ايسا صاحبِ ثروت جو اپنے مال کی زکوٰۃ ادا نہ کرے اور تيسرا فاجر فقير۔

    کسی دانا نے فرمايا کہ ميں نے سب سے زيادہ غمگين حاسدوں کو پايا اور سب سے خوشحال اس شخص کو پايا جو زيادہ قناعت کرتا ہے اور خواہشات والی چيزوں پر صبر کرتا ہے۔ جو شخص تارک الدنيا ہو اس کی زندگی آسانی سے گزرتی ہے اور جو عالِم زيادہ کوتاہی کرتا ہے اسے ندامت زيادہ ہوتی ہے۔۲؎

    ايک اور حديث شريف:
مدینـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ

۱؎    (السنن الکبری للبيھقي،کتاب الزکاۃ، باب ما ورد من الوعيد فيمن کنز مال زکاۃ ولم یؤد زکاتہ، الحديث:۷۲۲۷،ج۴،ص۱۳۸)

۲؎    (إحياء علوم الدين،کتاب ذم البخل وذم حب المال، الآثار،ج۳،ص۳۲۰)
Flag Counter