Brailvi Books

ضیائے صدقات
344 - 408
    ''قرض کا ضامن بن گیاتھا''اس کی وضاحت کرتے ہوئے مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:اس ضمانت کی صورت يہ ہوتی ہے کہ دو قوميں ديت يا دوسرے قرض کی وجہ سے آپس ميں لڑنے لگيں، کوئی اُن ميں صلح کرانے اور دفع شر کے لئے مقروض کا قرض يا مقتول کی ديت اپنے ذمہ لے لے يعنی دفع فساد يا صلح کرانے کے لئے مال کا ضامن بن جانا يا اپنے ذمہ لے لينا۔

    ''ٹھہرو حتی کہ صدقہ آجائے''اس کے تحت حکیم الامت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:صدقہ سے مراد ظاہری جانوروں کی پيداوار کی زکوٰۃ ہے جو حکومت اسلاميہ وصول کرتی تھی يا مال باطنی يعنی سونے چاندی وغيرہ کی زکوٰۃ جو غنی صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم حضور انورصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی خدمت ميں حاضر کرتے تھے تاکہ حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ہی خيرات کرديں اور حضور انورصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی برکت سے خيرات قبول ہو يعنی اے قبيصہ! اتنا توقف کرو کہ زکوٰۃ وصول ہوجائے تو اس سے تمہارا زرِ ضمانت ادا کرديا جائیگا۔

    ''بقدر قرض پالے پھر باز رہے''اس کے تحت فرماتے ہیں:اس سے معلوم ہوا کہ ايسا ضامن اگرچہ مالدار بھی ہو تو صدقہ مانگ سکتا ہے کيونکہ يہ مانگنا اپنے لئے نہيں بلکہ اُس مقروض فقير کے لئے ہے جو فقير ہے جس کا يہ ضامن ہے، رب تعالیٰ نے زکوٰۃ کے مصارف ميں غارمين (مقروضوں) کا بھی ذکر فرمايا ہے وہ يہ ہی مقروض ہيں۔۱؎

    ايک اور حديث شريف ميں سُوال سے اجتناب کی تعليم فرمائی گئی، چنانچہ:
مدینــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ

۱؎    (مرآۃ المناجيح شرح مشکاۃ المصابیح،ج ۳،ص۵۴)
Flag Counter