Brailvi Books

ضیائے صدقات
343 - 408
ثُمَّ قَالَ: ''يا قُبَيصۃُ، إِنَّ الْمَسْأَلَۃَ لَا تَحِلُّ إِلَّا لِأَحَدِ ثَلَاثَہٍ: رَجُلٍ تَحَمَّلَ حَمَالَۃً فَحَلَّتْ لَہُ الْمَسْأَلَۃُ حَتّٰی يصِيبَھَا ثُمَّ يمْسِکَ، وَرَجُلٍ أَصَابَتْہُ جَاءِحَۃٌ اِجْتَاحَتْ مَالَہُ فَحَلَّتْ لَہُ الْمَسْأَلَۃُ حَتّٰی يصيْبَ قِوَاماً مِنْ عَيشٍ۔ أَوْ قَالَ۔ سِدَاداً مِنْ عَيشٍ، وَرَجُلٍ أَصَابَتْہُ فَاقَۃٌ حَتّٰی يقُوْلَ ثَلَاثَۃٌ مِنْ ذَوِي الْحِجٰی مِنْ قَوْمِہِ: لَقَدْ أَصَابَتْ فُلَاناً فَاقَۃٌ، فَحَلَّتْ لَہُ الْمَسْأَلَۃُ حَتّٰی يصِيبَ قِوَاماً مِنْ عَيشٍ۔ أَوْ قَالَ۔ سِدَاداً مِنْ عَيشٍ، فَمَا سِوَاھُنَّ مِنَ الْمَسْأَلَۃِ يا قُبَيصۃُ سُحْتٌ ياکُلُھَا صَاحِبُھَا سُحْتاً''.۱؎
پھر فرمايا: اے قبيصہ! تين شخصوں کے سواء کسی کو مانگنا جائز نہيں ايک وہ جو کسی قرض کا ضامن ہوگيا ہو اُسے مانگنا جائز ہے حتی کہ بقدرِ قرض پالے پھر باز رہے، ايک وہ جس پر آفت آجائے جو اُس کا مال برباد کردے اُسے مانگنا حلال ہے حتی کہ زندگانی کا قيام پائے يا فرمايا کہ زندگی کی درستی پائے، اور ايک وہ جسے فاقہ پہنچ جائے حتی کہ اس کی قوم کے تين عقلمند شخص گواہی ديں کہ فلاں کوفاقہ پہنچا ہے تو اُسے مانگنا حلال ہے حتی کہ زندگی کا قيام يافرمایا: زندگی کی درستی پائے، اے قبيصہ! ان تین باتوں کے سواء مانگنا حرام ہے کہ مانگنے والا حرام کھاتا ہے۔
مدینـــــــــــــــــــــــــــــہ

۱؎    (سنن الدارمي،کتاب الزکاۃ، باب من تحل لہ الصدقۃ،الحديث:۱۶۸۴،ص۴۹۳)

(صحيح مسلم، کتاب الزکاۃ، باب من تحل لہ المسألۃ،الحديث:۱۰۴۴،ص۳۷۳)

(سنن أبي داود،کتاب الزکاۃ، باب ما تجوز فيہ المسألۃ،الحديث:۱۶۴۰،ج۲،ص۱۹۸۔۱۹۹)

(سنن النسائي،کتاب الزکاۃ،باب الصدقۃ لمن تحمل بحمالۃ،الحديث:۲۵۸۰،ج۳،الجزئ۵،ص۹۳)

(مشکاۃ المصابيح،کتاب الزکاۃ،باب من لا تحل لہ المسألۃ ومن تحل لہ،الحديث:۱۸۳۷،ج۱،ص۳۴۹)
Flag Counter