Brailvi Books

ضیائے صدقات
342 - 408
ديا: ہم دن عافيت ميں گزارتے تھے اور راتيں خواہشات ميں۔ آپ علیہ السلام نے فرمايا: کيوں؟ اس نے جواب ديا: اس لئے کہ ہم دنيا سے يوں محبت کرتے تھے جيسے بچہ ماں سے محبت کرتا ہے جب کوئی دنياوی اچھائی پاتے تو بہت خوش ہوتے اور جب کوئی مصيبت پڑتی تو روتے تھے۔ حضرت عيسیٰ علیہ السلام نے فرمايا: تمہارے ساتھيوں کو کيا ہوا وہ کيوں جواب نہيں ديتے؟ عرض کی: انہيں عذاب کے فرشتے آگ کی لگامیں ڈالے ہوئے ہیں۔حضرت عيسیٰ علیہ السلام نے فرمايا: تو تم کيسے ان کے درميان جواب دے رہے ہو؟ عرض کی: ميں ان ميں سے نہيں ميں تو بس ان پر عذاب نازل ہوتے وقت ان کے درميان سے گزر رہا تھا تو وہ عذاب مجھ پر بھی آپہنچا اور ميں جہنم کے کنارے ايک بال سے لٹکا ہوا ہوں پس ميں نہيں جانتا کہ ميں اس سے نجات پاؤں گا يا نہيں۔۱؎

    تين قسم کے لوگوں کا سوال کرناجائز ہے۔ چنانچہ:
عَنْ أَبِيْ بِشْرٍ قُبَيصَۃَ بْنِ الْمُخَارِقِرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ: تَحَمَّلْتُ حَمَالَۃً، فَأَتَيتُ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَسْأَلُہُ فِيھَا فَقَالَ: ''أَقِمْ حَتّٰی تَأْتِينا الصَّدَقَۃُ فَنَأْمُرَ لَکَ بِھَا''
حضرت ابو بشر قبيصہ بن مخارق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے، فرماتے ہيں: ميں ايک قرض کا ضامن بن گيا تھا، تو خاتم المرسلین، رحمۃ للعالمین، شفیع المذنبین، انیس الغریبین، سراج السالکین، محبوب رب العٰلمین، جناب صادق و امین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی خدمت ميں اس کے لئے کچھ مانگنے کو حاضر ہوا، تو حضور نے فرمايا: ٹھہرو حتی کہ صدقہ آجائے تو ہم اُس کا تمہارے لئے حکم دے ديں گے
مدینـــــــــــــــــــــــــــــــــــہ

۱؎    (نزھۃ المجالس،باب الزھد والقناعۃ والتوکل،ج۲،ص۲۴)
Flag Counter