Brailvi Books

ضیائے صدقات
341 - 408
''وَاللہِ لٰکِنَّ فُلَاناً مَا ھُوَ کَذٰلِکَ لَقَدْ أَعْطَيتُہُ مَا بَين عَشْرَۃٍ إِلٰی مِائَۃٍ فَمَا يقُوْلُ ذٰلِکَ أَمَا وَاللہِ إِنَّ أَحَدَکُمْ لَيخْرِجُ مَسْأَلَتَہُ مِنْ عِنْدِيْ يتَأَ بَّطُھَا'' يعنِيْ تَکُوْنُ تَحْتَ إِبْطِہِ نَاراً، فَقَالَ: قَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ: يا رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لِمَ تُعْطِيھا إِياھُمْ؟ قَالَ:''فَمَا أَصْنَعُ؟ يابَوْنَ إِلَّا ذٰلِکَ، وَيابَی اللہُ لِيَ الْبُخْلَ''.۱؎
اللہ عزوجل کی قسم! فلاں کا معاملہ تو ایسا نہیں، میں نے تو اسے دس سے سوکے درمیان دیئے ہیں وہ ایسا کیوں کہتا ہے؟ اللہ عزوجل کی قسم! تم میں سے کوئی مجھ سے اپنی مطلوبہ شے بغل میں دبائے لے جاتا ہے،یعنی اس کی بغل کے نیچے آگ ہوتی ہے۔ راوی کہتے ہیں: حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی: یارسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہ وسلم! تو پھر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم انہیں کیوں عطا کرتے ہیں؟آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں کیا کروں؟ وہ اس کے بغیر راضی نہیں اور اللہ تعالیٰ میرے ليے بخل کو ناپسند فرماتا ہے۔

    صاحبِ نزہۃ المجالس فرماتے ہيں کہ ميں نے تفسير علائی ميں سورئہ يس شريف کی تفسیر ميں ديکھا کہ ايک مرتبہ عيسیٰ علیہ السلام ايک گاؤں سے گزرے تو وہاں والوں کو راستوں ميں مردہ حالت ميں پايا تو آپ نے اللہ عزوجل سے ان کے متعلق پوچھا ، اللہ تعالیٰ نے انہيں وحی فرمائی کہ جب رات ہو تو ان کو پکارئيے گا يہ آپ کو جواب ديں گے۔جب رات ہوئی تو آپ علیہ السلام نے انہيں پکارا ، ان ميں سے ايک بولا:لبيک اے روح اللہ! حضرت عيسیٰ علیہ السلام نے فرمايا: تمہارا کيا معاملہ ہے؟ اس نے جواب
مدینــــــــــــــــــــــــہ

۱؎    (الترغيب والترھيب،کتاب الصدقات، فصل،الترھيب من المسألۃ وتحريمھا مع الغنی،الحديث:۲۸،ج۱،ص۳۰۰)
Flag Counter