| ضیائے صدقات |
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہيں: جب تم ميں سے کوئی شخص اپنی ضرورت طلب کرے تو نرمی سے طلب کرے اور کسی کے پاس جاکر يہ نہ کہے کہ تم ايسے ہو تم ايسے ہو کہ اس کی پيٹھ توڑ دے (يعنی تعريف ميں مبالغہ کرتا جائے) کيوں کہ رزق تو اتنا ہی ملے گا جو اس کے نصيب ميں ہے۔
بنو اميہ ميں سے کسی نے حضرت ابو حازم رحمۃ اللہ تعالیٰ عليہ کو خط لکھا اور قسم دے کر کہا جو حاجات ہوں مجھے بتائيں حضرت ابو حاز0.م رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے جواباً لکھا: ميں نے اپنی حاجات اپنے مولا عزوجل کے ہاں پیش کردی ہيں تو وہ جو کچھ دے گا قبول کروں گا اور جو کچھ مجھ سے روک رکھے گا اس پر صبر کروں گا۔۱؎
مانگنے والا حقیقتاً آگ طلب کرتا ہے، چنانچہ:عَنْ أَبِیْ سَعِيد الْخُدْرِيِّ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ: قَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ: يا رَسُوْلَ اللہِ لَقَدْ سَمِعْتُ فُلَاناً وَفُلَاناً يحسِنَانِ الثَّنَاءَ يذْکُرَانِ أَنَّکَ أَعْطَيتَھُمَا دِينارَين. قَالَ: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ :
حضرت سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت سیدنا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی: یارسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہ وسلم! میں نے فلاں، فلاں کو سنا وہ بہت اچھی تعریف کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں دو دینار عطا فرمائے۔ راوی کہتے ہیں:تو نبی کریم رء وف الرحیم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
مدینـــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ ۱؎ (إحياء علوم الدين،کتاب ذم البخل وذم حب المال، الآثار،ج۳،ص۳۲۰)