Brailvi Books

ضیائے صدقات
339 - 408
    ڈھونڈا ہی کريں صدرِ قيامت کے سپاہی

                وہ کس کو ملے جو ترے دامن ميں چھپا ہو

يہاں شيخ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمايا کہ انبيائے کرام کی يہ ضمانتيں باذنِ الٰہی ہيں اور برحق ہيں حتی کہ ايک پيغمبر کا نام ہی ذی الکفل ہے کيونکہ وہ اپنی اُمّت کے لئے جنت کے کفيل ہوگئے تھے۔

    مزید فرماتے ہیں: سب سے پہلے اس حديث پر خود حضرت ثوبان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ايسا عمل کيا کہ وفات تک کسی سے کچھ نہ مانگا، معلوم ہوا کہ علم پر عالم خود عمل کرے۔۱؎

    سوال کا انجام فقر ہے چنانچہ:
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ عَوْفٍ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ أَنَّ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: ''ثَلَاثٌ وَالَّذِيْ نَفْسُ مُحَمَّدٍ بَيدہِ إِنْ کُنْتُ لَحَالِفاً عَلَیْھِنَّ: لَا ينقُصُ مَالٌ مِنْ صَدَقَۃٍ فَتَصَدَّقُوْا، وَلَا یَعْفُوْ عَبْدٌ عَنْ مَظْلَمَۃٍ يبتَغِيْ بِھَا وَجْہَ اللہِ إِلَّا رَفَعَہُ اللہُ بِھَا عِزّاً، وَلَا يفتَحُ عَبْدٌ بَابَ مَسْأَلَۃٍ إِلَّا فَتَحَ اللہُ عَلَيہ بَابَ فَقْرٍ.۲؎
حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ عزوجل کے محبوب، دانائے غیوب، منزہ عن العیوب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمايا: اس ذات پاک کی قسم جس کے قبضہ قدرت ميں محمد کی جان ہے تين باتيں ہيں جن پر ميں قسم کھاسکتا ہوں، صدقہ سے مال کم نہيں ہوتا تو صدقہ ديا کرو اور بندہ اللہ کی رضا کی خاطر ظلم کو درگزرنہیں کرتا مگراللہ تعالیٰ بروزِ قیامت اُسے عزّت عطا فرمائے گا اور بندہ سوال کا دروازہ نہ کھولے گا مگراللہ تعالیٰ اس پر فقيری کا دروازہ کھول دے گا۔
مدینـــــــــــــــــــــــــــــہ

۱؎    (مرآۃ المناجيح شرح مشکاۃ المصابیح،ج ۳،ص۶۸)

۲؎    (المسند للإمام أحمد بن حنبل،مسند عبد الرحمان بن عوف،الحديث:۱۶۷۴،ج۱،ص۵۱۵)
Flag Counter