علامہ شيخ نظام الدين حنفی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ متوفی ۱۱۶۱ھ فرماتے ہيں،
ھي تمليک المال من فقير مسلم غير ہاشمي، ولا مولاہ بشرط قطع المنفعۃ عن الملک من کل وجہ للہ تعالی، ہذا في الشرع کذا في ''التبيين''.۲؎
يعنی، زکوٰۃ شرع ميں اللہ کے لئے مال کے ايک حصہ کا جو شرع نے مقرر کيا ہے مسلمان فقير کو مالک کردينا ہے اور فقير نہ ہاشمی ہو نہ ہاشمی کا آزاد کردہ غلام اور اپنا نفع اس سے بالکل جُدا کرلے۔(بہارِ شريعت،مسائل فقہیہ،حصہ۵، ص۷)
فرضيت اور وجوبيت کے اعتبار سے زکوٰۃ کی دو قسميں ہيں، چنانچہ امام علاء الدين
مدینــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ
۱؎ (شعب الإيمان،باب في الزکاۃ، فصل في القرض،الحديث:۳۵۶۳، ج۳،ص۲۸۴)
(المعجم الصغير للطبراني،الحديث: ۴۹۲،ص۲۴۶)
(المعجم الکبير، الحديث: ۳۴۹۸،ج۴، ص۴۱۷)
۲؎ (الفتاوی الہنديۃ المعروف بعالمکيريۃ،کتاب الزکاۃ، الباب الأول في تفسيرہا... إلخ، ج۱،ص۱۷۰)