Brailvi Books

ضیائے صدقات
33 - 408
    نيز قرض دينا بھی صدقہ کی قسم سے ہے، چنانچہ حديث شريف ميں ہے:
عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ مَسْعُوْدٍرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: ''کُلُّ قَرْضٍ صَدَقَۃٌ''. ۱؎
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے، فرماتے ہيں کہ حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمايا، ہر قرض صدقہ ہے۔
فرض زکوۃ کا بيان

زکوٰۃ کی تعريف:
    علامہ شيخ نظام الدين حنفی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ متوفی ۱۱۶۱ھ فرماتے ہيں،
ھي تمليک المال من فقير مسلم غير ہاشمي، ولا مولاہ بشرط قطع المنفعۃ عن الملک من کل وجہ للہ تعالی، ہذا في الشرع کذا في ''التبيين''.۲؎
    يعنی، زکوٰۃ شرع ميں اللہ کے لئے مال کے ايک حصہ کا جو شرع نے مقرر کيا ہے مسلمان فقير کو مالک کردينا ہے اور فقير نہ ہاشمی ہو نہ ہاشمی کا آزاد کردہ غلام اور اپنا نفع اس سے بالکل جُدا کرلے۔(بہارِ شريعت،مسائل فقہیہ،حصہ۵، ص۷)
زکوٰۃ کی اقسام:
فرضيت اور وجوبيت کے اعتبار سے زکوٰۃ کی دو قسميں ہيں، چنانچہ امام علاء الدين
مدینــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ

۱؎ (شعب الإيمان،باب في الزکاۃ، فصل في القرض،الحديث:۳۵۶۳، ج۳،ص۲۸۴)

    (المعجم الصغير للطبراني،الحديث: ۴۹۲،ص۲۴۶)

    (المعجم الکبير، الحديث: ۳۴۹۸،ج۴، ص۴۱۷)

۲؎ (الفتاوی الہنديۃ المعروف بعالمکيريۃ،کتاب الزکاۃ، الباب الأول في تفسيرہا... إلخ، ج۱،ص۱۷۰)
Flag Counter