Brailvi Books

ضیائے صدقات
338 - 408
عَنْ ثَوْبَانَ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : ''مَنْ يکفُلْ لِيْ أَنْ لَّا يسأَلَ النَّاسَ شَيئًا أَتَکَفَّلْ لَہُ بِالْجَنَّۃِ''فَقُلْتُ: أَنَا فَکَانَ لَا يسأَلُ أَحَداً شَيئًا.۱؎
حضرت ثوبان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے، فرماتے ہيں: حضورپاک، صاحب لولاک سیاح افلاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمايا: جو مجھے اس کی ضمانت دے کہ لوگوں سے کچھ نہ مانگے گا تو ميں اُس کے لئے جنت کا ضامن ہوں تومیں نے کہا: ميں! چنانچہ وہ کسی سے کچھ نہیں مانگا کرتے تھے۔

    مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اس حدیث پاک کی شرح میں فرماتے ہیں:يعنی جو مجھ سے بھيک نہ مانگنے کا عہد کرے تو ميں اُس کی چار چيزوں کا ذمہ دار ہوتا ہوں، زندگی تقویٰ پر، موت ايمان پر، کاميابی قبر ميں، چھٹکارا حشر ميں؛کيونکہ جنت ان چار چيزوں کے بعد نصيب ہوگی اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے حبيب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو اپنی جنت کا مالک و مختار بنايا ہے کيونکہ بغير اختيار ضمانت کيسی، يہ بھی معلوم ہوا کہ سوال سے بچنے والے کو حضور انورصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اپنی امان ميں لے ليتے ہيں پھر اس پر نہ شیطان کا داؤ چلے، نہ نفس امارہ قابو پائے، جسے وہ اپنے دامن ميں چھپاليں اُس کا کوئی کيا بگاڑ سکتا ہے، يہ بھی معلوم ہوا کہ حضور انورصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا تصرف اور حضور علیہ السلام کی امن و امان عالم ميں قيامت تک جاری ہے، کيونکہ حضور انورصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی يہ ضمانت صرف صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے لئے نہيں تا قيامت ہر سوال سے بچنے والے مومن کے لئے ہے۔ شعر
مدینـــــــــــــــــــــــہ

۱؎    (سنن أبي داود،کتاب الزکاۃ، باب في الاستعفاف،الحديث:۱۶۴۳،ج۲،ص۲۰۲)

(مشکاۃ المصابیح،کتاب الزکاۃ، باب من لا تحل لہ المسألۃ ومن تحل لہ،الحديث۱۸۵۷،ج۱،ص۳۵۳)
Flag Counter