Brailvi Books

ضیائے صدقات
337 - 408
ہو اس حديث سے بعض لوگ کہتے ہيں کہ غنا فقر سے بہتر ہے، اور غنی شاکر، فقير صابر سے افضل، مگر حق يہ ہے کہ فقير صابر غنی شاکر سے افضل ہے، ہماری اس تقرير سے يہ حديث غنی کے افضل ہونے کی دليل نہيں ہوسکتی کيونکہ يہاں بھکاری فقير کا ذکر ہے نہ کہ صابر کا بعض صوفياء فرماتے ہيں کہ يہاں اوپر والے ہاتھ سے فقير صابر مراد ہے اور نیچے والے سے بھکاری، تب تو سبحان اللہ بہت لطف کی بات ہے۔

    مفتی صاحب مزید فرماتے ہیں:''بَعْد''کے معنی ''سوا'' بہت ہی مناسب ہيں جو شيخ نے اختيار کئے يعنی آپ سے تو جيتے جی قبر ميں حشر ميں مانگتا ہی رہوں گا کيوں نہ مانگوں ميں بھکاری آپ داتا، رب تعالیٰ فرماتا ہے:
(وَلَوْ اَنَّہُمْ اِذۡ ظَّلَمُوۡۤا اَنۡفُسَہُمْ جَآءُوۡکَ)
 ترجمہ: اور اگر جب وہ اپنی جانوں پر ظلم کريں تو اے محبوب تمہارے حضور حاضر ہوں (کنزالايمان[النساء:۴/۶۴]) اور فرماتا ہے:
 (وَ اَمَّا السَّآءِلَ فَلَا تَنْہَرْ ﴿ؕ۱۰﴾
 ترجمہ: اور منگتا کو نہ جھڑکو (کنزالايمان ([الضحی:۹۳/۱۰]) آپ سے مانگنے ميں ہماری عزّت ہے، ہاں آپ کے سواء کسی سے نہ مانگوں گا، شعر

اُن کے در کی بھيک چھوڑيں سروری کے واسطے

                 اُن کے در کی بھيک اچھی سروری اچھی نہيں

کل قيامت ميں ساری مخلوق حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے شفاعت وغيرہ کی بھيک مانگے گی، حضرت حکيم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے يہ وعدہ ايسا پورا کيا کہ اگر گھوڑے سے آپ کا کوڑا گر جاتا تو خود اُتر کرليتے کسی سے مانگتے نہيں۔۱؎

    سُوال سے گريز کرنے پر جنّت کی بشارت ہے، چنانچہ:
مدینــــــــــــــــــــــــــــــــہ

۱؎    (مرآۃ المناجيح شرح مشکاۃ المصابیح،ج ۳،ص۵۷۔۵۸)
Flag Counter