Brailvi Books

ضیائے صدقات
336 - 408
    مزید فرماتے ہیں کہ لاپرواہی سے مراد طمع اور ہوس کا مقابل ہے، يعنی جو مال لے تو ليکن صبر و قناعت کے ساتھ کہ ناجائز کی طرف نظر نہ اُٹھائے اور جائز مال کی بھی ہوس نہ ہو تو اگرچہ اس کے پاس مال تھوڑا ہو مگر برکت ہوگی، کيونکہ اس ميں اللہ رسول کی رضا شامل ہوگی، خيال رہے کہ مال کی زيادتی اور ہے، برکت کچھ اور، زيادتی مال کبھی ہلاک کرديتی ہے مگر برکت مال دين و دنيا ميں رب تعالیٰ کی رحمت ہوتی ہے برکت والا تھوڑا پانی پياس بجھاديتا ہے، بہت سا پانی ڈبو ديتا ہے ديکھو طالوت کے جن ساتھيوں نے نہر سے ايک چُلّو پانی پر قناعت کی، وہ کامياب رہے اور بہت سا پينے والے مارے گئے، کيونکہ چلّو ميں برکت تھی اور اس ميں محض کثرت۔

    ''جو کھائے اور سیر نہ ہو''اس کی وضاحت میں مفتی صاحب فرماتے ہیں: جوع البقر بيماری والا کھانے سے سير نہيں ہوتا اور استسقاء والا پانی سے، ان دونوں کی يہ بھُوک اور پياس کبھی ہلاکت کا باعث ہوجاتی ہے، حضور انورصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے مال کی ہوس کو جوع البقر قرار ديا۔

    مزید فرماتے ہیں:اوپر والے ہاتھ سے مراد دينے والا اور نیچے والے سے مانگ کر لينے والا، خواہ دينے والا نذرانہ کے طور پر نیچا ہاتھ کرکے ہی دے اور لينے والا اوپر ہاتھ کرکے ہی اُٹھائے، مگر پھر بھی دينے والا ہی اونچا ہے، يہاں دينے اور لينے سے مراد بھيک دينا اور لينا ہے اولاد کا ماں باپ کو دينا، مريد صادق کا اپنے شيخ کامل کی خدمت ميں کچھ پيش کرنا، انصار کا حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی بارگاہ ميں نذرانے پيش کرنا اس حکم سے علیحدہ ہيں، اگر ہماری کھالوں کے جوتے بنيں اوررشتہ جان کے تسمے اور حضور انور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اسے استعمال فرماليں تو ان کے حق کا کروڑواں حصہ ادا نہ