Brailvi Books

ضیائے صدقات
334 - 408
    سوال کی مذمّت ميں وارد ايک اور حديث شريف:
عَنْ حَکِيم بْنِ حِزَامٍ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ: سَأَلْتُ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَأَعْطَانِيْ، ثُمَّ سَأَلْتُہُ فَأَعْطَانِيْ، ثُمَّ سَأَلْتُہُ فَأَعْطَانِيْ، ثُمَّ قَالَ: ''يا حَکِيم، ھٰذَا الْمَالُ خَضِرٌ حُلْوٌ، فَمَنْ أَخَذَہُ بِسَخَاوَۃِ نَفْسٍ بُوْرِکَ لَہُ فِيہ، وَمَنْ أَخَذَہُ بِإِشْرَافِ نَفْسٍ لَمْ يبارَکْ لَہُ فِيہ، وَکَانَ کَالَّذِيْ ياکُلُ وَلَا يشْبَعُ، وَالْيد العُلْيا خَير مِّنَ الْيد السُّفْلٰی''. قَالَ حَکِيم فَقُلْتُ: يا رَسُوْلَ اللہِ وَالَّذِيْ بَعَثَکَ بِالْحَقِّ لَا أَرْزَأُ أَحَداً بَعْدَکَ شَيئًا حَتّٰی أُفَارِقَ الدُّنْيا، فَکَانَ أَبُوْ بَکْرٍرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ يدعُوْ حَکِيماً لِيعْطِيہ الْعَطَاءَ، فَيابٰی أَنْ يقْبَلَ مِنْہُ شَيئًا، ثُمَّ إِنَّ عُمَرَرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ
حضرت حکيم بن حزام رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے، فرماتے ہيں: ميں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے مانگا حضور نے ديا ميں نے پھر مانگا حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے مجھے اور ديا میں نے پھر مانگا حضور نے پھر ديا، پھر مجھ سے فرمايا: اے حکيم! يہ مال خوش نما خوش ذائقہ ہے جو اسے دلی لاپرواہی سے لے گا اس کیلئے اس ميں برکت ہوگی اور جو اسے نفسانی طمع سے لے گا اس کیلئے اس میں برکت نہ ہوگی اور وہ اس کی طرح ہوگا جو کھائے اور سير نہ ہو،اور اوپر والا ہاتھ نيچے والے ہاتھ سے بہتر ہے، حضرت حکيم فرماتے ہيں کہ ميں نے عرض کی: يارسول اللہ!صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا کہ ميں آپ کے سوا کسی سے کچھ نہ مانگوں گا حتی کہ دنيا چھوڑ دوں ۔حضرتِ ابو بکرصدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپ کو (اپنے دورِ خلافت ميں) عطيہ
Flag Counter