کریں،اور کثرت سے لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللہِ پڑھوں، حق بات کہوں اوراللہ تعالیٰ کے معاملہ میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پرواہ نہ کروں، لوگوں سے کچھ نہ مانگوں۔
حضرت عبد اللہ بن سلام رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کعب احبار رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا کہ علماء کے دلوں سے علم کو کونسی چيز لے جاتی ہے جبکہ وہ اسے سمجھ بھی ليتے ہيں اور ياد بھی کرليتے ہيں؟ انہوں نے فرمايا: نفس کی حرص اور حاجات کی طلب۔
ايک شخص نے حضرت فُضَيل رحمۃ اللہ تعالیٰ عليہ سے حضرت کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اس قول کی وضاحت پوچھی تو انہوں نے فرمايا: جب آدمی کسی چيز کی لالچ کرتا ہے تو اسے طلب کرتا ہے يوں وہ اپنا دين کھو بيٹھتا ہے جہاں تک حرص کا تعلق ہے تو نفس کی حرص کبھی اس چيز کی طرف جاتی ہے اور کبھی اُس چيز کی طرف حتی کہ وہ کسی بھی چيز کے ہاتھوں سے نکل جانے کو پسندنہیں کرتا اور بعض اوقات تمہیں کسی شخص سے غرض ہوتی ہے اور اس سے کوئی کام ہوتا ہے پھر جب وہ تمہارا کام پورا کرديتا ہے تو تمہاری نکيل اس کے ہاتھ ميں چلی جاتی ہے وہ جہاں چاہتا ہے تمہیں لے جاتا ہے وہ تم پر قادر ہوتا ہے اور تم اس کے سامنے جھکتے ہو اور دنيا کی محبت کے باعث جب تم اس کے پاس سے گزرتے ہو تو اسے سلام کرتے ہو جب وہ بيمار ہوتا ہے تو اس کی عيادت کرتے ہو تم اسے رضائے خداوندی کی خاطر سلام نہيں کرتے اور نہ ہی عيادت سے رضائے الٰہی مقصود ہوتی ہے پس اگر تمہیں اس سے کوئی کام نہ ہوتا تو تمہارے لئے اچھا تھا پھر حضرت فضيل رحمۃ اللہ تعالیٰ عليہ نے فرمايا کہ يہ بات فلاں فلاں کی سو باتوں سے بہتر ہے۔۲؎