Brailvi Books

ضیائے صدقات
332 - 408
فَقَالَ ثَوْبَانُ: فَمَا لَہُ يا رَسُوْلَ اللہِ؟ قَالَ: ''الْجَنَّۃُ''فبَایَعَہُ ثَوْبَانُ. قَالَ أَبُوْ أُمَامَۃَ: فَلَقَدْ رَأَيتہُ بِمَکَّۃَ فِيْ أَجْمَعِ مَا يکوْنُ مِنَ النَّاسِ يسقُطُ سَوْطُہُ وَھُوَ رَاکِبٌ، فَرُبَّمَا وَقَعَ عَلٰی عَاتِقِ رَجُلٍ فَياخُذُ الرَّجُلُ فَيناوِلُہُ فَمَا ياخُذُہُ حَتّٰی يکوْنَ ھُوَ ينزِلُ فَياخُذُہُ.۱؎
حضرت ثوبان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا: یارسول اللہ! صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ايسے شخص کے لئے کيا اجر ہے؟فرمايا: جنت! توحضرت ثوبان بيعت سے سرفراز ہوئے۔ حضرت ابو اُمامہ کہتے ہيں کہ ميں نے مکہ ميں کثير لوگوں کے درميان بھی آپ (يعنی ثوبان) کو دیکھا کہ سواری کی حالت ميں آپ کا کوڑا گر جاتا (تواٹھا دینے کيلئے کسی کو نہ کہتے) بلکہ بسا اوقات کسی شخص کے کندھے پر گر پڑتا تووہ شخص اُسے پکڑکر آپ کو دیتاتوآپ نہ لیتے حتی کہ خود نیچے اترتے اور کوڑا اٹھا ليتے۔

    ايک اور حديث شريف:
عَنْ أَبِيْ ذَرٍّرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ: أَوْصَانِيْ خَلِيليْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِسَبْعٍ: حُبِّ الْمَسَاکِين، وَأَنْ أَدْنُوَ مِنْھُمْ، وَأَنْ أَنْظُرَ إِلٰی مَنْ ھُوَ أَسْفَلُ مِنِّيْ، وَلَا أَنْظُرَ إِلٰی مَنْ فَوْقِيْ، وَأَنْ أَصِلَ رَحِمِيْ وَإِنْ جَفَانِيْ،
حضرت ابو ذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہيں: مجھے میرے خلیل صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے سات باتوں کی وصيت فرمائی ہے، مسکينوں سے محبت کی اوریہ کہ ان سے قريب ہوجاؤں، اپنے سے کم تر کو ديکھوں اور اپنے سے برتر کو نہ ديکھوں ، اپنے رشتہ داروں سے صلہ رحمی کروں اگرچہ وہ مجھ سے بے وفائی
مدینــــــــــــــــــــــــــــــہ

۱؎    (المعجم الکبير للطبراني،الحديث:۷۸۳۲،ج۸،ص۲۰۶)
Flag Counter