Brailvi Books

ضیائے صدقات
331 - 408
تَعْبُدُوا اللہَ وَلَا تُشْرِکُوْا بِہِ شَيئًا، وَالصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ، وَتُطِیعُوْا وَأَسَرَّ کَلِمَۃً خَفِیۃً وَلَا تَسْأَلُوا النَّاسَ شَيئًا''، فَلَقَدْ رَأَيت بَعْضَ أُوْلٰءِکَ النَّفَرِ يسقُطُ سَوْطُ أَحَدِھِمْ، فَمَا يسأَلُ أَحَداً يناوِلُہُ إِياہُ.۱؎
عبادت کروگے اور اس کے ساتھ کسی کو شريک نہ ٹھہراؤ گے، پنجوقتہ نماز کی پابندی کروگے، اللہ و رسول کی فرمانبرداری کروگے اورایک بات آہستہ سے فرمائی کہ لوگوں سے کسی چیز کا سوال نہیں کروگے۔ (راوی کہتے ہيں) ميں نے ان حضرات ميں سے بعض کو ديکھا ہے کہ ان میں سے کسی کا کوڑا (سواری پر سے) گرجاتا تو کسی سے سُوال نہ کرتے کہ اُٹھادے۔ 

     ايک اور حديث شريف ميں اس طرح کا مضمون ہے، چنانچہ:
عَنْ أَبِيْ أُمَامَۃَرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:''مَنْ يبايعُ''؟ فَقَالَ ثَوْبَانُ مَوْلٰی رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: بَايعْنَا يا رَسُوْلَ اللہِ.قَالَ: ''عَلٰی أَنْ لَّا تَسْأَلَ أَحَداً شَيئًا''
حضرت ابو اُمامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہيں:شہنشاہ مدینہ،قرارقلب و سینہ، صاحب معطر پسینہ، باعث نزول سکینہ، فیض گنجینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمايا: کون بيعت کریگا؟ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام ثوبان نے عرض کی: یارسول اللہ! ہمیں بيعت فرما لیجئے،آپ نے فرمايا: اس بات پر(بیعت کرو) کہ کسی سے کچھ نہ مانگو گے
مدینــــــــــــــــــــــــہ

۱؎    (صحيح مسلم،کتاب الزکاۃ، باب کراھۃ المسألۃ للناس،الحديث:۱۰۴۳،ص۳۷۳)

(سنن أبي داود،کتاب الزکاۃ، باب کراھيۃ المسألۃ،الحديث:۱۶۴۲،ج۲،ص۲۰۱)

(سنن ابن ماجہ،کتاب الجھاد، باب البيعۃ، الحديث:۲۸۶۷،ج۳،ص۳۹۸۔۳۹۹)
Flag Counter