Brailvi Books

ضیائے صدقات
330 - 408
قناعت کرنے اور سوال سے اجتناب کی شان ميں وارد ايک اور حديث شريف:
عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِکٍ الْأَشْجَعِيِّ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ: کُنَّا عِنْدَ رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ تِسْعَۃً أَوْ ثَمَانِيۃً أَوْ سَبْعَۃً، فَقَالَ:''أَلَا تُبَايعُوْنَ رَسُوْلَ اللہِ ''؟وَکُنَّا حَدِيث عَھْدٍ بِبَيعَۃٍ، فَقُلْنَا: قَدْ بَايعْنَاکَ يا رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ:''أَلَا تُبَايعُوْنَ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ '' فَقُلْنَا قَدْ بَايعْنَاکَ يا رَسُوْلَ اللہِ، ثُمَّ قَالَ: ''أَلَا تُبَايعُوْنَ رَسُوْلَ اللہِ''؟قَالَ: فَبَسَطْنَا أَيدينا وَقُلْنَا: قَدْ بَايعْنَاکَ يا رَسُوْلَ اللہِ فَعَلَامَ نُبَایعُکَ؟قَالَ: ''عَلٰی أَنْ
حضرت عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہيں: ہم نو، آٹھ يا سات اشخاص نبی مکرم،نورمجسم، رسول اکرم، شہنشا ہ بنی آدم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی بارگاہ ميں حاضر تھے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمايا: کیاتم لوگ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی بيعت نہيں کرتے؟ حالانکہ ہم نے کچھ عرصہ پہلے بيعت کرلی تھی، تو ہم نے عرض کی: يارسول اللہ!صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ہم توبيعت کرچکے ہيں، آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے دوبارہ فرمايا: کیا تم لوگ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی بيعت نہيں کرتے؟ تو ہم نے عرض کی: يارسول اللہ!صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ہم تو بيعت کرچکے ہيں۔ آپ نے پھر فرمايا: کیاتم لوگ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی بيعت نہيں کرتے؟راوی کہتے ہیں: تو ہم نے اپنے ہاتھ بڑھا دئيے اور عرض کی : یارسول اللہ! صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم بيعت تو ہم کرچکے ہيں،اب کس بات پر بيعت کریں؟ فرمايا: اس بات پر کہ اللہ کی
Flag Counter