Brailvi Books

ضیائے صدقات
32 - 408
صدقہ کے معنی و اقسام
    لغت ميں صدقہ سے مراد
عَطِيۃٌ يرَادُبِھَا الْمَثْوَبَۃُ لاَ الْمَکْرَمَۃُ
 (المنجد) يعنی، وہ عطیہ ہے جس سے عزّت افزائی کے بجائے ثواب کا ارادہ کيا جائے۔

    اور علامہ سيد شريف جرجانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ حنفی نے صدقہ کی تعريف ان الفاظ ميں بيان کی:
ھِيَ الْعَطِيۃُ تَبْتَغِيْ بِھَا الْمَثْوَبَۃَ مِنَ اللہِ تَعَالیٰ.  ۱؎
يعنی، صدقہ وہ عطيہ ہے جواللہ تعالیٰ کی بارگاہ سے ثواب کی امید پر دیا جائے۔

ترمذی شريف کی ايک حديث ميں صدقہ کی چند اقسام بيان فرمائی گئیں ہيں:
عَنْ أَبِيْ ذَ رٍّ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ''تَبَسُّمُکَ فِيْ وَجْہِ أَخِيک لَکَ صَدَقَۃٌ، وَأَمْرُکَ بِالْمَعْرُوْفِ وَنَھْيک عَنِ الْمُنْکَرِ صَدَقَۃٌ، وَإِرْشَادُکَ الرَّجُلَ فِيْ أَرْضِ الضَّلَالِ لَکَ صَدَقَۃٌ، وَبَصَرُکَ لِلرَّجُلِ الرَّدِيءِ الْبَصَرِ لَکَ صَدَقَۃٌ، وَإِمَاطَتُکَ الْحَجَرَ وَالشَّوْکَۃَ وَالْعَظْمَ عَنِ الطَّرِيقِ لَکَ صَدَقَۃٌ، وَإِفْرَاغُکَ مِنْ دَلْوِکَ فِيْ دَلْوِ أَخِيک لَکَ صَدَقَۃٌ''.۲؎
حضرت ابو ذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہيں، نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سرور، دو جہاں کے تاجور ، سلطانِ بَحرو بَر صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمايا، تمہارا اپنے بھائی کے لئے مسکرانا بھی صدقہ ہے، نيکی کی دعوت دينا بھی صدقہ ہے، بُرائی سے روکنا بھی صدقہ ہے، بھٹکے ہوئے کی راہنمائی کرنا بھی صدقہ ہے، کمزور نگاہ والے کی مدد کرنا بھی صدقہ ہے، راستے سے پتھر، کانٹا اور ہڈی کا ہٹادينا بھی صدقہ ہے، اپنے ڈول سے اپنے بھائی کے ڈول ميں پانی ڈال دينا بھی صدقہ ہے۔
مدینــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ

۱؎ (کتاب التعريفات، باب الصاد، ص۹۴)

۲؎    (سنن الترمذي، کتاب البر والصلۃ، باب ما جاء في صنائع المعروف، الحديث: ۱۹۵۶،ج۳،ص۹۰)
Flag Counter