| ضیائے صدقات |
ڈالے گا ہی نہيں، اگر اس کے نصيب ميں دولت مندی نہيں ہے تو اُسے ايمان پر موت نصيب کرکے جنت کی نعمتيں عطا فرمائیگا اور اگر دولت مندی نصيب ميں ہے تو وہ جلدی نہ سہی دير سے ہی عطا فرمادے گا کہ اسکی کمائی ميں برکت دیگا۔ ۱؎ زيادتی مال کی حرص ميں بھيک مانگنا حقيقتاً جہنم کے انگارے جمع کرنا ہے، چنانچہ:
عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : ''مَنْ سَأَلَ النَّاسَ لِيثرِيَ مَالَہُ، فَإِنَّمَا ھِيَ رَضْفٌ مِّنَ النَّارِ مُلْھَبَۃٌ فَمَنْ شَاءَ فَلْيقِلَّ، وَمَنْ شَاءَ فَلْيکثِرْ''.۲؎
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہيں: سرکاروالا تبار، ہم بے کسوں کے مددگار، شفیع روزشمار، دو عالم کے مالک و مختار، حبیب پروردگارصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمايا: جو شخص لوگوں سے سوال کرے اس لئے کہ اپنے مال کو بڑھائے تووہ جہنم کا گرم پتھر ہے، اب اسے اختیار ہے چاہے کم مانگے یا زيادہ ۔
قناعت کی عظمت اور سوال کی مذمّت ميں ايک اور حديث شريف:عَنْ حَکِيم بْنِ حِزَامٍ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ: جَاءَ مَالٌ مِنَ الْبَحْرَين فَدَعَا النَّبِيُّ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الْعَبَّاسَ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فَحَفَنَ لَہُ، ثُمَّ
حضرت حکيم بن حزام رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہيں، بحرين سے مال آیا تو آقائے مظلوم، سرورمعصوم، حسن اخلاق کے پیکر، نبیوں کے تاجور، محبوب ر ب اکبر صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بلا کر
مدینــــــــــــــــــــــــہ ۱؎ (مرآۃ المناجيح شرح مشکاۃ المصابیح،ج۳،ص۶۵۔۶۶) ۲؎ (صحيح ابن حبان،الحديث:۳۳۹۱،ج۸،ص۱۸۵)