Brailvi Books

ضیائے صدقات
327 - 408
    اپنی حاجات عام لوگوں کے بجائے رب تعالیٰ کی بارگاہ ميں عرض کرنے سے اللہ تعالیٰ جلد غِنَاء عطا فرماتا ہے۔ چنانچہ:
عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:''مَنْ أَصَابَتْہُ فَاقَۃٌ فَأَنْزَلَھَا بِالنَّاسِ لَمْ تُسَدَّ فَاقَتُہُ. وَمَنْ أَنْزَلَھَا بِاللہِ، أَوْشَکَ اللہُ لَہُ بِالْغِنٰی، إِمَّا بِمَوْتٍ عَاجِلٍ، أَوْ غِنًی آجِلٍ''.۱؎
حضرت عبد اللہ بن مسعود سے مروی ہے، فرماتے ہيں:تاجداررسالت، شہنشاہ نبوت، مخزنِ جودو سخاوت، پیکر عظمت و شرافت، محبوب ر ب العزت محسن انسانیت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمايا: جسے فاقہ پہنچا اور اس نے لوگوں کے سامنے بیان کیا تو اس کا فاقہ بند نہ کیا جائے گا اوراگراس نے اللہ سے عرض کی تو اللہ جلد اسے بے نیاز کردیگا خواہ جلدموت سے يا آئندہ غنا سے۔

    اس حدیث کی شرح میں حکیم الامت فرماتے ہیں:يعنی اپنی غريبی کی شکايت لوگوں سے کرتا پھرے اور بے صبری ظاہر کرے اور لوگوں کو اپنا حاجت روا جان کر ان سے مانگنا شروع کردے تو اس کا انجام يہ ہوگا کہ اُسے مانگنے کی عادت پڑجائے گی، جس ميں برکت نہ ہوگی اور ہميشہ فقیر ہی رہے گا۔

    آپ مزید فرماتے ہیں:جو اپنا فاقہ لوگوں سے چھپائے رب تعالیٰ کی بارگاہ ميں دعائيں مانگے اور حلال پيشہ ميں کوشش کرے تو رب تعالیٰ اُسے مانگنے کی ضرورت
مدینـــــــــــــــــــــــــــــــــــہ

۱؎     (سنن أبي داود،کتاب الزکاۃ، باب في الاستعفاف، الحديث:۱۶۴۵،ج۲،ص۲۰۲)

(سنن الترمذي،کتاب الزھد،باب ما جاء في الھمّ في الدنيا وحبھا، الحديث:۲۳۲۶، ج۳، ص۲۹۶)

(مشکاۃ المصابیح،کتاب الزکاۃ، باب من تحل لہ المسألۃ ومن لا تحل لہ،الحديث:۱۸۵۲،ج۱، ص۳۵۲)
Flag Counter