بے ضرورت بھکاری تين قسم کے تھے معمولی کبھی کبھی مانگ لينے والے، اور ہميشہ کے بھکاری، ضدی ہٹ دھرم بھکاری، اسی لئے ان کے چہروں کے آثار بھی تين طرح کے ہوئے جيسی بھيک ويسا اُس کا اثر لہٰذا اَوْ تقسيم کے لئے ہے شک کے لئے نہيں۔
خيال رہے کہ جس نصاب سے سوال حرام ہوتا ہے اُس کی مقداريں مختلف آئی ہيں، يہاں تو پچاس درہم يعنی قريباً ساڑھے بارہ روپے ارشاد ہوئے،۱؎ دوسری روايت ميں ایک اوقيہ ارشاد ہوا يعنی چاليس درہم، تيسری روايت ميں دن رات کا کھانا ارشاد ہوا، لہٰذا بعض شارحين نے ان دونوں حديثوں کو دن رات کے کھانے والی حديث سے منسوخ مانا، ليکن چونکہ ہر شخص کی حاجت مختلف ہوتی ہے، بڑے کنبے والے کا روزانہ خرچ زيادہ ہوتا ہے درميانی کنبے والے کا درميانہ اور اکيلے آدمی کا خرچہ بھی بہت معمولی، سرکار صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے يہ تين ارشاد تين قسم کے لوگوں کے لحاظ سے ہيں، جيسا موقعہ اور جيسا مسئلہ پوچھنے والا ويسا حضور انورصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا جواب، حکيم کی ہر بات حکمت سے ہوتی ہے، لہٰذا حديث ميں تعارض نہيں، اور ممکن ہے کہ حرمت سوال کا حکم تدریجاً آہستگی سے وارد ہوا ہو، اولاً پچاس درہم والوں کو روکا گيا ہو، پھر چاليس والوں کو آخر ميں دن رات کے کھانے پر قدرت رکھنے والے کو، جيسے شراب کا حال ہوا، کيونکہ اہل عرب سوال کے عادی تھے، ايکدم سوال چھوڑ نہ سکتے تھے اس لئے يہ ترتیب برتی گئی۔۲؎