Brailvi Books

ضیائے صدقات
325 - 408
عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ''مَنْ سَأَلَ النَّاسَ وَلَہُ مَا يغْنِيہ جَاءَ يوْمَ الْقِيامَۃِ وَمَسْئَلَتُہُ فِيْ وَجْھِہِ خُمُوْشٌ أَوْ خُدُوْشٌ أَوْ کُدُوْحٌ''، قِيل: يا رَسُوْلَ اللہِ! مَا يغْنِيہ؟ قَالَ: ''خَمْسُوْنَ دِرْھَماً أَوْ قِيمَتُھَا مِنَ الذَّھَبِ''.۱؎
حضرت عبد اللہ بن مسعود سے مروی ہے، فرماتے ہيں: خاتم المرسلین، رحمۃ للعالمین، شفیع المذنبین، انیس الغریبین، سراج السالکین، محبوب رب العٰلمین، جناب صادق و امینصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمايا: جو لوگوں سے مانگے حالانکہ اسکے پاس اتنا ہے جو اسے بے پرواہ کردے تو قيامت ميں اس طرح آئیگا کہ اسکے سوال اس کے چہرے ميں کُھرچن يا خارش يا زخم ہونگے، عرض کيا گيا: يارسول اللہ! قدرِ غنا کيا ہے؟ فرمايا: پچاس درہم يا اس قيمت کا سونا۔

    حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں:يعنی اس کے پاس روز مرہ کی ضروريات کھانا کپڑا ہے اور کوئی خاص ضرورت درپيش نہيں۔

    مزید فرماتے ہیں:ظاہر يہ ہے کہ تينوں ہی الفاظ اَوْ کے ساتھ حضور انورصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ہی کے ہيں، راوی کا شک نہيں اور ان تينوں کے الگ الگ معنی ہيں، ہر دوسرے لفظ ميں پہلے سے ترقی زيادہ ہے، جيسا کہ ہم نے ترجمہ ميں ظاہر کرديا، چونکہ
مدینـــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ

۱؎    (سنن أبي داود،کتاب الزکاۃ،باب من یعطی من الصدقۃ وحد الغنٰی،الحديث:۱۶۲۶،ج۲،ص۱۸۹)

(سنن ابن ماجہ،کتاب الزکاۃ،باب من سأل عن ظھر غنی،الحديث:۱۸۴۰،ج۲،ص۴۱۰)

(سنن الترمذي،کتاب الزکاۃ،باب ما جاء من تحل لہ الزکاۃ،الحديث:۶۵۰،ج۱،ص۴۷۰)

(سنن النسائي،کتاب الزکاۃ، باب حد الغنی، الحديث:۲۵۹۱،ج۳،الجزئ۵،ص۱۰۲)

(مشکاۃ المصابيح،کتاب الزکاۃ، باب من لا تحل لہ المسألۃ ومن تحل لہ،الحديث:۱۸۴۷،ج۱، ص۳۴۹)
Flag Counter