حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہيں:شہنشاہ خوش خصال، پیکر حسن وجمال، دافع رنج و ملال، صاحب جودو نوال، رسول بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمايا: جوغنی ہوتے ہوئے سوال کرے وہ جہنم کے تپتے پتھر بڑھا رہا ہے۔ صحابہ نے عرض کی: غناء سے کيا مراد ہے؟ فرمايا: رات کا کھانا۔
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہيں: ہر دن ايک فرشتہ آواز ديتا ہے اے ابنِ آدم! تھوڑا جو تمہيں کفايت کرے اس زيادہ سے بہتر ہے جو تمہيں سرکش بنادے۔۲؎
حضرت سمےط بن عجلان رحمۃ اللہ تعالیٰ عليہ فرماتے ہيں: اے انسان! تمہارا پيٹ ايک بالشت مکعب ہے پھر وہ تجھے دوزخ ميں کيوں لے جاتا ہے۔
کسی دانا سے پوچھا گيا کہ آپ کا مال کيا ہے؟ انہوں نے جواب ديا: ظاہر ميں اچھی حالت ميں رہنا، باطن ميں ميانہ روی اختيار کرنا اور جو کچھ لوگوں کے پاس ہے اس سے مايوس ہونا۔۳؎
حديث شريف ميں ہے: