Brailvi Books

ضیائے صدقات
323 - 408
    ايک اور روايت:
عَنْ أَبِيْ ھُرَيرۃَرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:''مَنْ سَأَلَ النَّاسَ أَمْوَالَھُمْ تَکَثُّراً، فَإِنَّمَا يسأَلُ جَمْراً فَلْيستَقِلَّ أَوْ لِيستَکْثِرْ''.۱؎
حضرت ابو ہريرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے، فرماتے ہيں:اللہ عزوجل کے محبوب، دانائے غیوب، منزہ عن العیوب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمايا: جو شخص مال بڑھانے کيلئے سوال کرتا ہے وہ انگارہ مانگتا ہے، اب چاہے کم مانگے يا زيادہ۔

    اس حدیث کی شرح میں مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں: يعنی بلا سخت ضرورت بھيک مانگے بقدر حاجت مال رکھتا ہو زيادتی کے لئے مانگتا پھرے وہ گويا دوزخ کے انگارے جمع کررہا ہے چونکہ يہ مال دوزخ ميں جانے کا سبب ہے اسی لئے اسے انگارہ فرمايا۔ اس حديث سے آج کل کے عام پيشہ ور بھکاريوں کو عبرت لينی چاہے۔۲؎

    ايک اور حديث شريف:
مدینــــــــــــــــــــــــــــــہ

۱؎    (صحيح مسلم،کتاب الزکاۃ، باب کراھۃ المسألۃ للناس،الحديث:۱۰۴۱،ص۳۷۲)

(مشکاۃ المصابیح،کتاب الزکاۃ،باب من لا تحل لہ المسألۃ ومن تحل لہ،الحديث:۱۸۳۹،ج۱،ص۳۴۹)

۲؎    (مرآۃ المناجيح شرح مشکاۃ المصابیح،ج۳،ص۵۵)
Flag Counter