Brailvi Books

ضیائے صدقات
322 - 408
عَنْ مَسْعُوْدِ بْنِ عَمْرٍو رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنَّہُ أُتِيَ بِرَجُلٍ يصَلِّيْ عَلَيہ فَقَالَ: ''کَمْ تَرَکَ''؟ قَالُوْا: دِينارَين أَوْ ثَلَاثَۃً. قَالَ: ''تَرَکَ کَيتين أَوْ ثَلَاثَ کَياتٍ''، فَلَقِيت عَبْدَ اللہِ بْنَ الْقَاسِمِ مَوْلٰی أَبِيْ بَکْرٍ فَذَکَرْتُ ذٰلِکَ لَہُ، فَقَالَ لَہُ: ذَاکَ رَجُلٌ کَانَ يسْأَلُ النَّاسَ تَکَثُّراً.۱؎
حضرت سیدنا مسعودبن عمرورضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ عزوجل کے محبوب، دانائے غیوب، منزہ عن العیوب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں ایک میت کو نمازجنازہ پڑھنے کے لئے لایاگیا۔آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: اس نے کیا چھوڑا؟لوگوں نے عرض کی: دویاتین دینار۔آپ صلی اللہ تعا لیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اس نے دویاتین داغ چھوڑے۔ راوی کہتے ہیں مَیں حضرت سیدناابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے غلام عبداللہ بن قاسم سے ملااوراسے یہ بات بتائی۔ انہوں نے بتایاکہ وہ آدمی مال بڑھانے کے لئے سوال کیا کرتا تھا۔

     بلا ضرورت مانگنے کو انگارے چننے کی مثل فرمايا گيا چنانچہ:
عَنْ حَبَشِیِّ بْنِ جُنَادَۃَرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ يقُوْلُ: ''اَلَّذِيْ يسْأَلُ مِنْ غَير حَاجَۃٍ کَمَثَلِ الَّذِيْ يلتَقِطُ الْجَمْرَ''.۲؎
حضرت حبشی بن جنادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہيں: ميں نے حضورپاک، صاحب لولاک، سیاح افلاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو فرماتے سُنا: جو بغير حاجت سوال کرتا ہے وہ اس کی طرح ہے جوانگارے چنتا ہے۔
مدینــــــــــــــــــــــــــہ

۱؎    (الترغيب والترھيب،کتاب الصدقات، فصل، الترھيب من المسألۃ وتحريمھا مع الغِنیٰ، الحديث:۱۱،ج۲،ص۲۹۵)

۲؎    (شعب الإيمان،باب في الزکاۃ،فصل في الاستعفاف عن المسألۃ،الحديث:۳۵۱۷،ج۳،ص۲۷۱)
Flag Counter