ہوگا اور حرص کی ذلت برداشت کرنا پڑے گی۔ پھر حرص اور لالچ اسے بری عادات اور برائيوں کے ارتکاب کی طرف لے جائيں گی جس سے مروت ختم ہوجائے گی۔
حرص و لالچ تو انسان کی فطرت ميں رکھی گئی ہيں يہی وجہ ہے کہ انسان فطرتاً قناعت بہت کم کرتا ہے، رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمايا: اگر انسان کے پاس سونے کی دو وادياں ہوں تو وہ تيسری وادی تلاش کرتا ہے اور انسان کے پيٹ کو مٹی کے سوا کوئی چيز نہيں بھر سکتی اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرے تو اللہ تعالیٰ کی رحمت اس کی طرف متوجہ ہوتی ہے۔
حضرت ابو واقدليثی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہيں:جب آقائے مظلوم، سرور معصوم، حسن اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، محبوب ر ب اکبرصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی طرف وحی آتی تو ہم آپ کی خدمت ميں حاضر ہوتے اور آپ ہميں اس وحی کی تعليم فرماتے، ايک دن ميں حاضر خدمت ہوا تو آپ نے فرمايا: اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے بے شک ہم نے مال نماز قائم کرنے، زکوٰۃ ادا کرنے کے لئے اتارا ہے اور اگر انسان کے پاس سونے کی ايک وادی ہو تو وہ پسند کرتا ہے کہ اس کے پاس دوسری وادی بھی ہو اور اگر دوسری بھی ہو تو وہ چاہے گا کہ تيسری بھی ہو اور انسان کے پيٹ کو تو صرف مٹی ہی بھر سکتی ہے اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتا ہے اللہ تعالیٰ کی رحمت اس کی طرف آتی ہے۔۱؎
ايک اور حديث شريف ميں غنی کے سوال کی قباحت کا بيان ہوا، چنانچہ: