| ضیائے صدقات |
حضرت محمد بن واسع رحمۃ اللہ تعالیٰ عليہ خشک روٹی کو پانی کے ساتھ تر کرکے کھاتے اور فرماتے جو شخص اس پر قناعت کرتا ہے وہ کسی کا محتاج نہيں ہوتا۔۱؎
اگر معلوم ہوجائے کہ مانگنے ميں کيا کراہت ہے تو کوئی نہ مانگے، چنانچہ:عَنْ عَاءِذِ بْنِ عَمْرٍورَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ أَنَّ رَجُلاً أَتَی النَّبِيَّ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَہُ فَأَعْطَاہُ، فَلَمَّا وَضَعَ رِجْلَہُ عَلٰی أُسْکُفَّۃِ الْبَابِ. قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ''لَو تَعْلَمُوْنَ مَا فِي الْمَسْأَلَۃِ مَا مَشٰی أَحَدٌ إِلٰی أَحَدٍ يسأَلُہُ شَیْئًا''.۲؎
حضرت عائذ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ سرکاروالا تبار، ہم بے کسوں کے مددگار، شفیع روزشمار، دو عالم کے مالک و مختار، حبیب پروردگارصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی بارگاہ ميں ایک شخص نے آکر سوال کيا آپ نے عطا فرمايا جب (لوٹتے ہوئے) اس شخص نے دہليز پر قدم رکھا تو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمايا: اگر لوگوں کو معلوم ہوتا کہ سوال کرنے ميں کيا ہے تو کوئی کسی کے پاس مانگنے نہ جاتا۔
امام غزالی علیہ رحمۃ اللہ الوالی فرماتے ہیں:سوال سے بچنا اسی وقت ممکن ہے جبکہ کھانے، لباس اور رہائش میں بقدر ضرورت پر قناعت کرے کہ اس کی مقدار بھی کم ہو اور ادنیٰ قسم کا ہو اور اپنی توجہ کو ايک دن يا ايک مہينے کی طرف مبذول رکھے اور مہينے کے بعد جو کچھ ہے اس ميں دلچسپی سے گريز کرے اگر زيادتی کی چاہ رکھے گا يا طويل اميد قائم کریگا تو قناعت کے اعزاز سے محروم ہوجائے گا اور لازماً لالچ کی گرد ميں آلودہمدینـــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ ۱؎ (إحياء علوم الدين،کتاب ذم البخل وذم حب المال، الآثار،ج۳،ص۳۲۰) ۲؎ (السنن الکبری للنسائي،کتاب الزکاۃ،الصدقۃ علی الأقارب،الحديث: ۲۳۶۷،ج۲،ص۵۰)