Brailvi Books

ضیائے صدقات
31 - 408
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللہُ عَنْھُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : ''مَنْ جَاعَ أَوِ احْتَاجَ فَکَتَمَہُ النَّاسَ، وَأَفْضٰی بِہِ إِلَی اللہِ تَعَالٰی کَانَ حَقّاً عَلَی اللہِ أَنْ يفْتَحَ لَہُ قُوْتَ سَنَۃٍ مِنْ حَلَالٍ''.۱؎
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے، فرماتے ہے، رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا، جو بھوکا یا حاجت مند ہو پھر اسے لوگوں سے چھپائے اور (اپنا معاملہ) اللہ عزوجل کے سپرد کردے تو اللہ تعالیٰ کے ذمہ کرم پر ہے کہ اس کے لے ایک سال تک حلال روزی کے دروازے کھول دے۔

    اس حدیث کے تحت حکیم الامت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں ''يہ فرمان بالکل درست ہے اور مجرب ہے اپنی فقیری چھپانے والے بفضلہ تعالیٰ امیر ہوجاتے ہيں کبھی جلد اور کبھی دیر سے مگر فقط چھپانے پر کفایت نہ کرے کمانے کی کوشش کرے يہ سال بھر کی روزی آسمان سے نہيں برسے گی بلکہ اسباب سے ملے گی''۔

    غرض یہ کہ اس کتاب میں صدقات ومتعلقات کے فضائل پر ڈھیروں مدنی پھول جمع کرنے کی سَعْی کی گئی ہے۔ نظر ِ ثانی کی بھی حتی الامکان ترکیب کی گئی، مگر بَشَرِی تقاضوں کی بناء پر اَغلاط کا وجود خالی از اِمکان نہیں۔ برائے مدینہ اگر کسی قسم کی غلطی خامی پائیں تو تحریری طور اِصلاح فرمائیں۔
جَزَاکُمُ اللہُ خَیْراً فِی الدَّارَیْنِ۔ (اٰمِیْن)
ابو ا لضیاء عطّاری
مدینـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ

۱؎ (شعب الإیمان، باب في الصبر علی المصائب، فصل في ذکر ما فيالأوجاع إلخ،الحديث: ۱۰۰۵۴،ج۷، ص۲۱۵)

(مشکاۃ المصابيح،کتاب الرقاق، باب فضل الفقراء وما کان من عيش النبي صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ، الحديث: ۱۸۶۴،ج۱، ص۳۵۴)

۲؎    (مرآۃ المناجیح،ج۵،ص۸۴)
Flag Counter