Brailvi Books

ضیائے صدقات
312 - 408
پر ہی اُٹھانا ہے مگر پہلی بات زيادہ قوی ہے۔

     حکیم الامت مزید فرماتے ہیں:اگر خيانۃً يا رشوۃً اُونٹ، گائے، بکری يا کوئی اور جانور بھی ليا ہوگا تو اُسے بھی اپنی گردن پر اُٹھائے پھرے گا، بوجھ سے دبے گا بھی اور ان آوازوں کی وجہ سے سارے (لوگوں)ميں بدنام ہوگا، معلوم ہوا کہ نيکيوں پر قيامت ميں انسان سوار ہوگا اور بدياں انسان پر سوار ہوں گی۔ خيال رہے کہ اللہ تعالیٰ قيامت ميں مسلمانوں کے خفيہ گناہ نہ کھولے گا ستاری فرمائے گا مگر جو بے غيرت دنيا ميں علانيہ گناہ کريں اور ان پر فخر بھی کريں وہ ضرور کھليں گے، لہٰذا يہ حديث عيب پوشی کی احاديث کے خلاف نہيں۔۱؎

    ايک دوسری حديث شريف:
عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ الْأَنْصَارِيِّ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُقَالَ: بَعَثَنِيْ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ سَاعِيا ثُمَّ قَالَ:''اِنْطَلِقْ أَبَا مَسْعُوْدٍ لَا أُلْفِينکَ تَجِيئُ يومَ الْقِيامَۃِ عَلٰی ظَھْرِکَ بَعِير مِنْ إِبِلِ الصَّدَقَۃِ لَہُ رُغَاءٌ قَدْ غَلَلْتَہُ'' قَالَ: إِذاً لَا أَنْطَلِقُ قَالَ: ''إِذاً لَا أُکْرِھُکَ''.۲؎
حضرت ابن مسعود انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہيں: نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سرور، دو جہاں کے تاجور، سلطان بحرو بر صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے مجھے عامل بنا کر بھيجا توفرمايا:اے ابو مسعود! جاؤ ميں تمہيں قيامت کے دن ہرگز اس حال ميں آتے نہ پاؤں کہ تمہاری پيٹھ پر صدقہ کا اُونٹ بلبلاتا ہو جس کی تم نے خيانت کی ہو۔ انہوں نے عرض کی: پھر تو میں نہیں جاتا۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: پھر میں بھی تمہیں مجبور نہیں کرتا۔
مدینــــــــــــــــــــــــــــــــــہ

۱؎    (مرآۃ المناجيح شرح مشکاۃ المصابیح،ج ۳،ص۱۳۔۱۴)

۲؎    (سنن أبي داود،کتاب الخراج والإمارۃ والفيئ،باب غلول الصدقۃ،الحديث:۲۹۴۷،ج۳،ص۳۴۰)
Flag Counter